مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 302 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 302

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 284 مکرم ڈاکٹر نذیر احمد صاحب کی تقریباً 17 سال پر محیط عرب علاقوں میں خدمات کے مختصر بیان کے بعد ہم اس عرصہ میں عربوں میں دیگر مقامات پر رونما ہونے والے جماعت کی تبلیغ اور تعلقات کے واقعات کی طرف لوٹتے ہیں۔ذیل میں دو ایسے ایمان افروز واقعات درج کئے جاتے ہیں جن کی تاریخ اور سال کی تعیین نہیں ہوسکی تاہم اندازہ ہے کہ قریباً اسی عرصہ میں رونما ہوئے ہوں گے جس کے حالات کا ہم تذکرہ کر رہے ہیں۔عرب صاحب پر گھڑوں پانی پڑ گیا محترم میاں محمد صدیق بانی صاحب وہ عظیم شخصیت ہیں جنہوں نے مسجد اقصیٰ ربوہ کی تعمیر کے جملہ اخراجات ادا کرنے کا وعدہ کیا جن کا تخمینہ اس وقت تین لاکھ لگایا گیا لیکن مسجد کی تعمیر تک یہ تخمینہ پندرہ لاکھ ہو چکا تھا تاہم آپ نے یہ خرچ پوری بشاشت قلبی کے ساتھ ادا کیا۔آپ نے 19، 20 سال کی عمر میں بیعت کی تو شدید مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔آپ کے والدین آپ کو پہلے مولوی ابراہیم سیالکوٹی اور پھر مولوی ثناء اللہ امرتسری جیسے اشد مخالفین کے پاس بھی لے گئے مگر باوجود کم سنی کے آپ نے ان کے دانت کھٹے کر دیئے۔تب آپ کی والدہ نے آپ کو چنیوٹ میں مقیم ایک عرب عالم دین کے پاس لے جانے کا ارادہ کیا۔اس کا حال میاں محمد صدیق صاحب خود بیان فرماتے ہیں: ایک رات بعد نماز تراویح ان کے ہاں جانے کا پروگرام بنا اور میری رضاعی والدہ نے عرب صاحب کو اس سے اطلاع دی۔والدہ صاحبہ کی خواہش کے مطابق میں وہاں گیا۔والدہ صاحبہ اور تقریباً میں قریبی مستورات ہمراہ تھیں۔عرب صاحب کے مکان کے قریب پہنچنے پر یہ دیکھ کر میری حیرانی کی حد نہ رہی کہ ان کے مکان کے عین سامنے وسیع میدان میں دریاں بچھی ہوئی ہیں گیس کے لیمپ روشن ہیں۔درمیان میں ایک میز اور دو کرسیاں رکھی ہوئی