مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 301 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 301

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 283 روانگی کے وقت کا خیال ہی نہ رہا۔جب تبلیغ سے فارغ ہو کر واپس بندرگاہ پر آیا تو دیکھا کہ جہاز روانہ ہو چکا ہے۔یہ دیکھ کر میں سخت گھبرا گیا۔حالت یہ تھی کہ ایک رنگ آتا تھا اور ایک رنگ جاتا تھا۔دل میں سوچنے لگا کہ جہاز والے کیا کہیں گے اور پھر اگر کوئی مسافر بیمار ہو گیا یا مرگیا تو مجھ پر قانونی گرفت بھی ہو سکتی ہے“ فرماتے ہیں، اسی پریشانی کے عالم میں میری ساری رات دعاؤں میں گزری اور میں نے خدا کی غیرت کو ابھارنے کے لئے یوں دعا کی کہ ” خدایا! میں تیرا ہی کام کر رہا تھا، عربوں کو تیرے مسیح کی آمد کا پیغام پہنچا رہا تھا۔یہ میرا کوئی ذاتی کام تو تھا نہیں۔اب جہاز نکل گیا ہے۔میں اور کچھ نہیں جانتا۔بس تو ہی میرا جہاز واپس لا کر دے۔یہ دعا کرتے کرتے میں سو گیا فرماتے ہیں، رات خواب میں دیکھا کہ جہاز واپس آ گیا ہے۔اب جن عربوں کو میں شام تک تبلیغ کرتا رہا تھا، وہ پہلے ہی مجھ پر ہنس رہے اور میرا مذاق اڑا رہے تھے کہ اس کا جہاز نکل گیا ہے اور یہ مصیبت میں پھنس گیا ہے۔چنانچہ صبح جب میں نے ان لوگوں کو اپنی خواب سنائی اور بتایا کہ میرا جہاز واپس آ رہا ہے تو وہ اور بھی ہنسے اور کہنے لگے، کیسا مجنون آدمی ہے۔کیا بحری جہاز ایک بارچل چکنے کے بعد پھر کبھی واپس بھی آیا کرتے ہیں۔مگر فرماتے ہیں: ا بھی وہ لوگ میرا مذاق اڑا ہی رہے تھے کہ ایک آدمی بھاگا بھاگا آیا اور کہنے لگا، جہاز بندرگاہ پر واپس پہنچ گیا ہے۔میں خدا تعالیٰ کے اس احسان پر سجدات شکر بجالایا اور فوراً جہاز کے اندر جا کر اپنا کام کرنے لگا۔کسی کو معلوم ہی نہ ہوا کہ کیا ہوا ہے“ جہاز کی واپسی کا اصل سبب تو اللہ تعالیٰ کا اپنے ایک عاجز بندے کی نصرت اور پردہ پوشی کرنا تھا مگر فرماتے ہیں کہ اس کا ظاہری سبب یہ بنا کہ وہ جنگ کا زمانہ تھا اور دشمن کی آبدوزوں کے حملے کا ہر وقت خطرہ تھا۔ہمارے اس جہاز پر امن کا جھنڈا نصب نہیں تھا۔چنانچہ یہ جھنڈا لینے کے لئے جہاز کو واپس بندرگاہ پر آنا پڑا اور یوں اللہ تعالیٰ نے مسیح محمدی کے ایک غلام کو ہر قسم کی ممکنہ پریشانی سے بچا کر اپنی ہستی اور اپنے قادر مطلق ہونے کا ثبوت بہم پہنچایا۔فالحمد للہ علی ذلک۔تبلیغی میدان میں تائید الہی کے ایمان افروز واقعات تالیف عطاء المحجیب را شد صاحب صفحه ۵۱ تا ۶۱ ) 00000