مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 290
272 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول تو بھونچال لے آیا۔قبوں کو گرا کر ہموار کر دیا۔ہم شریف حسین کے دین بدر ہونے پر خوشی تھے کہ غدار اپنے انجام کو پہنچا مگر بے گرانے کے متعلق متذبذب تھے۔یہ سب تھے اور مقبرے سرمایہ داروں کی سنگ دلی کا نتیجہ ہیں۔اگر نبی کریم کی قبر اصل حال میں ہوتی تو اس زیارت سے سرمایہ داروں کے خلاف مسلمانوں کی نفرت قائم رہتی۔اب جبکہ مسلمان عوام کی دل و دماغ کی ساخت سرمایہ داری مشین میں تیرہ سو سال ڈھل کر بدل گئی تو ابن سعود کا ظہور ہوا۔۔۔۔بیچارہ ابن سعود بھی سرمایہ دارانہ ماحول کا پروش یافتہ تھا اسے خود اسلام کا منشاء معلوم نہ تھا۔اس نے چند قبے گرائے مگر خودشاہانہ بسر اوقات کرنے لگا “۔مجلس احرار کے آرگن ”مجاہد نے اپنے افتتاحیہ میں لکھا کہ " مجلس احرار اب تک جزیرۃ العرب کی حقیقی صورتحال سے واقف نہ تھی لیکن اب اسے یقین سے معلوم ہو گیا ہے کہ شاہ ابن سعود انگریزوں کے زیر اثر ہیں اور یہ کہ عرب کے خارجی معاملات پر برطانیہ کا قبضہ ہے اور انگریز مد بر سلطان کو معاہدوں کے جال میں پھنسا کر داخلی مسائل پر قابض ہورہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔مخالف پروپیگنڈہ کا اصل سبب سعودی حکومت کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے والوں کا مقصد کیا تھا؟ اس امر کی وضاحت کرتے ہوئے مولوی ثناء اللہ صاحب امرتسری نے اخبار ” اہل حدیث“ میں لکھا: رنج اس لئے ہے کہ عرب کے پہاڑوں سے اگر یہ چیزیں مل گئیں تو حکومت نجد یہ کو بڑی قوت حاصل ہوگی جوان برادران اسلام کو نا گوار ہے۔“ امام جماعت احمدیہ کا بصیرت افروز بیان 66 اہلحدیث امرتسر 2 راگست 1935 ، صفحه 15 مرکز اسلام کے سر براہ کی نسبت اشتعال انگیزیوں کا یہ افسوسناک طریق دیکھ کر سیدنا حضرت خلیفۃ اسیح الثانی کو شدید صدمہ پہنچا اور حضور نے 30 راگست 1935ء کے خطبہ جمعہ میں سلطان ابن سعود کے معاہدہ کا تذکرہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: ارشادفرمایا: ہم ہمیشہ عرب کے معاملات میں دلچسپی لیتے ہیں۔جب ترک عرب پر حاکم تھے تو اس وقت ہم نے ترکوں کا ساتھ دیا۔جب شریف حسین حاکم ہوا تو لوگوں نے اس کی سخت مخالفت