مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 289
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول جماعت احمد یہ لندن کی طرف سے تار 271 سلطان ابن سعود پر قاتلانہ حملہ کو جماعت احمد یہ نے گری ہوئی حرکت اور بزدلانہ فعل قرار دیا۔چنانچہ اخبار (الجامعة الإسلامية) نے اپنی 15 / ذوالحجۃ 1353ھ کی اشاعت میں لکھا کہ: کل لندن سے خبر آئی ہے کہ وہاں جماعت احمدیہ کی مسجد میں ایک بڑی تعداد میں مسلمانوں نے عید الاضحیٰ ادا کی جہاں پر انہوں نے جلالۃ الملک ابن سعود پر کعبہ شریف میں قاتلانہ حملہ کے خلاف سخت غم و غصہ کا اظہار کیا۔اور امام مسجد لندن نے اس حملہ کو گری ہوئی حرکت اور بزدلانہ فعل اور خدا تعالیٰ کے کفر سے تعبیر کیا“۔مسجد میں جمع ہونے والے مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد نے جلالۃ الملک ابن سعود کو اس حملہ سے بیچ جانے پر مبارکباد کا تار ارسال کیا۔(بحوالہ مجلة البشر کی مئی 1935 صفحہ 37) سعودی حکومت کے غیر مسلم کمپنی سے معاہدہ پر جماعتی موقف سلطان ابن سعود کے محافظوں کی طرف سے حرم کعبہ میں قاتل حملہ آوروں کے قتل کی مخالفت پورے زوروں پر تھی کہ خبر آئی کہ جلالتہ الملک نے ایک غیر مسلم کمپنی کو پیٹرول وغیرہ کا ٹھیکہ دینے کے لئے ایک معاہدہ طے کر لیا ہے۔اگر چہ یہ اپنی نوعیت کا کوئی پہلا معاہدہ نہیں تھا مگر خصوصاً مجلس احرار نے سلطان المعظم اور ان کی حکومت کے خلاف مسلمانوں کو مشتعل کرنے کے لئے جلسے کئے اور اخباروں میں بد گوئی سے کام لیتے ہوئے سخت زہریلا پروپیگنڈہ کیا۔اور بالآ خر اسے ایک خالص مذہبی مسئلہ قرار دے کر مخالفت کا ایک وسیع محاذ کھول دیا۔جس کی اصل وجہ یہ تھی کہ احرار لیڈر شریف حسین والٹی مکہ کی شکست کھا جانے کے بعد سعودی حکومت کے بھی مخالف تھے اور ابن سعود کو سرمایہ دارانہ ماحول کا پرورش یافتہ بتا کر بدنام کرتے رہتے تھے۔ان کی بعض آراء کی ایک جھلک ملاحظہ ہو: چو ہدری افضل حق تحریک احرار صفحہ 22 تا 24 “ میں لکھتے ہیں: م بن سعود کا سارے عرب میں طوطی بولنے لگا۔خشک قسم کا وہابی تھا۔مدینے میں قدم رکھا