مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 291 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 291

273 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کی مگر ہم نے کہا فتنہ فساد کو پھیلا نا مناسب نہیں۔جس شخص کو خدا نے حاکم بنا دیا ہے اس کی حکومت کو تسلیم کر لینا چاہئے تا کہ عرب میں نت نئے فسادات کا رونما ہونا بند ہو جائے۔اس کے بعد نجدیوں نے حکومت لے لی تو باوجود اس کے کہ لوگوں نے شور مچایا کہ انہوں نے قبے گرا دیئے اور شعائر کی ہتک کی ہے اور باوجود اس کے کہ ہمارے سب سے بڑے دشمن اہلحدیث ہی ہیں ، ہم نے سلطان ابن سعود کی تائید کی ، صرف اس لئے کہ مکہ مکرمہ میں روز روز کی لڑائیاں پسندیدہ نہیں۔حالانکہ وہاں ہمارے آدمیوں کو دکھ دیا گیا۔حج کے لئے احمدی گئے تو انہیں مارا پیٹا گیا۔مگر ہم نے اپنے حقوق کے لئے بھی اس لئے صدائے احتجاج کبھی بلند نہیں کی کہ ہم نہیں چاہتے ان علاقوں میں فساد ہو۔مجھے یاد ہے مولانا محمد علی جوہر، جب مکہ مکرمہ کی مؤتمر سے واپس آئے تو وہ ابن سعود سے سخت نالاں تھے۔شملہ میں ایک دعوت کے موقعہ پر ہم سب اکٹھے ہوئے تو انہوں نے تین گھنٹے اس امر پر بحث جاری رکھی۔وہ بار بار میری طرف متوجہ ہوتے اور میں انہیں کہتا کہ مولانا آپ کتنے ہی ان کے ظلم بیان کریں جب ایک شخص کو خدا تعالیٰ نے حجاز کا بادشاہ بنادیا ہے تو میں تو یہی کہوں گا کہ ہماری کوششیں اب اس امر پر صرف ہونی چاہئیں کہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کی گلیوں میں فساد اور لڑائی نہ ہو۔اور جو شورش اس وقت جاری ہے وہ دب جائے اور امن قائم ہو جائے تا کہ ان مقدس مقامات کے امن میں خلل واقع نہ ہو۔ابھی ایک عہد نامہ ایک انگریز کمپنی اور ابن سعود کے درمیان ہوا ہے۔سلطان ابن سعود ایک سمجھ دار بادشاہ ہے مگر بوجہ اس کے کہ وہ یورپین طریق سے اتنی واقفیت نہیں رکھتے ، وہ یورپین اصطلاحات کو صحیح طور پر نہیں سمجھتے ، ایک دفعہ پہلے جب وہ اٹلی سے معاہدہ کرنے لگے تو ایک شخص کو جو ان کے ملنے والوں میں سے تھے میں نے کہا کہ تم سے اگر ہو سکے تو میری طرف سے سلطان ابن سعود کو یہ پیغام پہنچا دینا کہ معاہدہ کرتے وقت بہت احتیاط سے کام لیں۔یورپین قوموں کی عادت ہے کہ وہ الفاظ نہایت نرم اختیار کرتی ہیں مگر ان کے مطالب نہایت سخت ہوتے ہیں۔اب وہ معاہدہ جو انگریزوں سے ہوا ، شائع ہوا ہے۔اور اس کے خلاف بعض ہندوستانی اخبارات مضامین لکھ رہے ہیں۔میں نے وہ معاہدہ پڑھا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ اس میں بعض غلطیاں ہو گئی ہیں۔اس معاہدہ کی شرائط کی رو سے بعض موقعہ پر بعض بیرونی حکومتیں یقیناً عرب میں دخل دے سکتی ہیں۔اللہ تعالیٰ جانتا ہے کہ اس کو پڑھ کر میرے دل کو سخت رنج پہنچا۔انگریز ہوں یا کوئی اور حکومت ، عرب کے معاملہ میں ہم کسی کا لحاظ