مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 278 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 278

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول رسالة البشرى 262 چین میں تعلیم حاصل کرنے والے مبلغ سلسلہ مکرم محمود احمد انیس صاحب لکھتے ہیں کہ : چین کے جنوب کے ایک صوبہ Yun Nan کے شہروں اور دیہاتوں میں کثیر تعداد میں مسلمان آباد ہیں۔لوگ بہت اچھے اور مہمان نواز ہیں۔اسی صوبہ کی ایک جگہ کا نام Wei Shan ہے۔یہ ایک قصبہ سا ہے جہاں کے لوگوں کا مذہب سے کافی لگاؤ ہے۔اس میں مسلمانوں کی 35 کے قریب مساجد اور مردوں اور عورتوں کے بہت سے دینی مدارس ہیں۔غالباً دسمبر 1997 ء کی بات ہے ، ایک دن صبح کے وقت Wei Shan کے ایک دینی مدرسہ کے پاس سے گزر رہا تھا اور اتفاق سے اس وقت میرے ہاتھ میں چینی زبان میں مطبوعہ کچھ کتا بیں بھی تھیں۔میں اس مدرسہ میں چلا گیا جہاں اسکے پرنسپل اور کچھ اور اساتذہ سے مختلف موضوعات پر بات ہوتی رہی۔اس دوران ایک بزرگ عمر کے عالم دین بھی آگئے جن کی عمر اس وقت اسی سال کے لگ بھگ ہوگی۔مجھے بتایا گیا کہ یہ اس علاقہ کے مفتی ہیں۔سلام دعا کے بعد وہ اسلامی اصول کی فلاسفی کے چینی ترجمہ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ میں اسکے مترجم کو جانتا ہوں، یہ کتاب تو جماعت احمدیہ کی ہے۔پھر خود ہی کہنے لگے کہ اس جماعت کے ایک رسالہ ” البشر می کی بہت سی کا پیاں ہمارے گھر میں تھیں۔پھر اس رسالہ کے متعلق کچھ تعریفی بات بھی کی۔میں نے پوچھا کہ وہ رسالے آپ نے کہاں سے لیے اور کہاں ہیں ؟ تو وہ کہنے لگے میرے والد ہندوستان جاتے تھے اور وہاں سے لائے تھے لیکن بعد میں ملکی حالات کے پیش نظر ہماری بہت سی کتب کے ساتھ ان رسالوں کو بھی جلا دیا گیا۔مجھے ان کی یہ بات سن کر ایک خوشگوار حیرت ہوئی کہ کیسے خدا تعالیٰ نے جماعت کے پیغام کو چین کے ایک انتہائی دور دراز علاقے میں ایک لمبا عرصہ پہلے پہنچانے کے سامان فرمائے جس کی گواہی آج مجھے بھی مل گئی۔الْبُشْری“ ، جامعہ احمد یہ ربوہ " شاید یہاں پر یہ بتانا مفید ہو کہ البشری ہی کے نام سے پاکستان سے بھی عربی زبان میں ایک رسالہ نکلتا رہا ہے۔یہ سہ ماہی رسالہ 1958ء سے شروع ہو کر 1973 تک جاری رہا۔اس کا پہلا شمارہ جولائی 1958ء میں نکلا۔اس کے بھی بانی اور سب سے پہلے رئیس التحریر حضرت