مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 272 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 272

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بول رہا تھا اور یہاں مسیح کا ایک خادم آواز دے رہا تھا۔عبرانی کی تعلیم 256 فلسطین میں یہودی اور عیسائی بکثرت پائے جاتے ہیں۔سومولانا نے انہیں تبلیغ کے نقطہء خیال سے یہ ضروری خیال کیا کہ اس زبان کی تکمیل و تحصیل کی جائے جو مسیح کی اپنی زبان تھی تا کہ پرانے نوشتوں کو ان کی اصلی زبان میں پڑھا جاسکے اور یہودی قوم کو ان کی زبان میں پیغام دعوت دیا جا سکے۔الغرض اس کے لئے بعض یہودی معلموں کو تنخواہ دے کر مولانا نے عبرانی زبان سیکھی اور اس پر کافی عبور حاصل کیا۔عظیم الشان کام فلسطین کی جماعت کی مرکز سے ہمیشہ وابستگی کے لئے ہمارے مبلغ نے ایک شاندار کام یہ کیا کہ ایک بہت بڑا قطعہ زمین وہاں کی جماعت سے لے کر صدر انجمن احمدیہ کے نام وقف کرا دیا۔آج اس کام کی قیمت ممکن ہے کہ اتنی نہ سمجھی جائے لیکن وقت آئے گا کہ یہ عظیم الشان کام اپنی اہمیت کو خود ظاہر کر دے گا۔اس کام کی وجہ سے وہاں کی جماعتوں کو مرکز سلسلہ کے ساتھ شدید وابستگی رہے گی۔جماعت کو رجسٹر ڈ کرانے کی مساعی ہمارے مبلغ نے اس عرصہ میں یہ بھی سعی کی کہ ہماری جماعت احمد یہ فلسطین کو سرکاری کا غذات میں رجسٹرڈ کرا کر ایک مسلمہ حیثیت دے لیں۔اس کام میں بہت سی مشکلات تھیں مگر اللہ تعالیٰ کا فضل ان کے شامل حال رہا ہے اور جماعت کو سرکاری حلقوں میں ایک مسلمہ جماعت تسلیم کر لیا گیا ہے۔اس طرح سے ایک نہایت ہی ٹھوس کام کو گزشتہ ساڑھے چارسال کے عرصہ میں سرانجام دیا گیا۔جماعت کا بیج فلسطین، شام، عراق، شرق اردن ،مصر، اور سوڈان تک پھیل گیا ہے اور پھیل رہا ہے۔اور یہ چھوٹے چھوٹے پودے بڑھ رہے ہیں اور ترقی حاصل کر رہے ہیں۔وقت آنے پر وہ بہت بڑے تن آور درخت بن جائیں گے۔مشخص از الحکم 14 اور 28 / مارچ و 7 /اپریل 1936 ء محمود احمد عرفانی صاحب کا مضمون)