مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 271 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 271

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 255 مدرسہ احمدیہ کا قیام تھا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس کے زمانہ میں وہاں ایک پرانی طرز کا کی مدرسہ تھا جس میں شیخ عبد القادر صاحب مغربی بچوں کو قرآن شریف پڑھایا کرتے تھے لیکن بڑھنے والی قوم کا قدم آگے ہی آگے پڑتا ہے۔ہمارے بچے اگر غیروں کے مدرسوں میں جائیں تو یہ اندیشہ شدید تھا کہ مخالف اساتذہ ان کو اپنے خیالات سے مسموم نہ کریں۔اس لئے یہ شدید ضرورت تھی کہ وہاں جدید نظام پر ایک مدرسہ قائم کردیا جائے۔اس کے لئے سخت مشکلات تھیں۔کہا بیر میں کوئی مدرس نہیں مل سکتا تھا۔غیر احمدی مدرس کو اپنے مدرسہ میں رکھنے سے ہماری غرض مفقود ہو جاتی تھی۔اس لئے بہت سی پریشانیوں میں سے گزرنا پڑا۔آخر تجویز ہوئی کہ مصر سے ایک نوجوان احمدی فلسطین بھیج دیا جائے۔کچھ وہ اور کچھ شیخ عبد القادر مغربی اور کچھ مشنری خود پڑھائے اور اس طرح مل ملا کر مدرسہ کو چلایا جائے۔اس غرض کے لئے محمد سعید بخت ولی نامی نوجوان کو منتخب کیا گیا۔محمد سعید ازھر میں ایک طالبعلم تھا۔اس کا والد افغانی رواق کا شیخ تھا۔محمد سعید احمدی ہو کر سلسلہ میں داخل ہوا۔علماء ازھر نے تحقیقات کر کے اس کو ازھر سے خارج کر دیا۔وظیفہ بند کر دیا۔مگر وہ اس تکلیف میں بھی ثابت قدم رہا۔اس لئے تجویز ہوئی کہ اسے مدرسہ کے لئے فلسطین بھیج دیا جائے۔مگر حکومت فلسطین نے اسے فلسطین میں جانے کی اجازت نہ دی۔ایک لمبی جدو جہد کے بعد مولانا اس کے فلسطین لے جانے میں کامیاب ہو گئے اور مدرسہ کی شکل کو تبدیل کر کے جدید نظام مدارس کی طرز پر مدرسہ کا افتتاح کر دیا۔ایک لطیف اور تاریخی بات حیفا ، ناصرہ کے قریب ہی ہے۔ناصرہ سے حیفا کو سیدھا راستہ جاتا ہے۔ناصرہ میں حضرت مسیح علیہ السلام پیدا ہوئے جس کی وجہ سے وہ ناصری کہلائے۔ناصرہ کے رہنے والے مسیح نے بیت المقدس آكر مَنْ أَنْصَارِى إِلَى الله کا مطالبہ کیا۔زمینوں کے اور پہاڑوں کے دامن میں رہنے والے ماہی گیروں نے اس آواز پر لبیک کہی۔انیس سو سال کے بعد جبل کرمل پر پھر ایک دفعہ مَنْ أَنْصَارِی إِلَى الله کی آواز گونجی۔جس کا جواب کہا بیر اور اس کے گرد ونواح کے عرب سنگ تراشوں اور مزدوروں نے نَحْنُ انصار الله کے پُر کیف و پر وجد نغمہ میں دیا۔یہاں اور وہاں فرق اس قدر تھا کہ وہاں مسیح خود