مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 251
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 235 سیحی: پھر تو آپ اس عقیدہ میں یہود نصاریٰ اور مسلمان تینوں قوموں کے مخالف ٹھہرے، اور یہ ایک شدید اختلاف ہے۔احمدی: ہمارا اختلاف حق پر مبنی ہے۔لیکن کیا ہم سے پہلے ان تینوں اقوام کا عقیدہ حضرت مسیح علیہ السلام کے متعلق واحد ہے۔سچ تو یہ ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کی ذات پیدائش سے لے کر یوم وصال تک گہوارہ اختلافات بنی ہوئی ہے۔یہود، مسلمانوں اور عیسائیوں میں سے ہر ایک کی الگ رائے اور الگ عقیدہ ہے۔پس ان اختلافات کے ہوتے ہوئے اگر ہم نئی تحقیق پیش کریں تو یہ عجیب بات نہیں۔عقلمند اختلاف کے لفظ سے نہیں ڈرتا بلکہ اس کی اصلیت پر غور کرتا ہے۔اور اگر اس کے دلائل اس کو قوی معلوم ہوں تو قبول کر لیتا ہے۔مسیحی: یہ آپ نے بالکل صحیح اور درست فرمایا۔لیکن آپ تو اب آئے اور مسیحی اور یہود قدیم سے مسیح کی صلیبی موت کے قائل ہیں۔احمدی: تقدم زمانی کسی قوم کے حق پر ہونے کی دلیل نہیں ہوسکتی۔ورنہ کیا آپ ولادت مسیح کے متعلق یہود کے اس قول کو صحیح تسلیم کرتے ہیں کہ نعوذ باللہ آپ ولد الزنا تھے۔کیونکہ عیسائیت کا اس وقت وجود بھی نہیں تھا اور یہود موجود تھے۔مسیحی ، نہیں ہرگز نہیں۔وہ تو بالکل جھوٹ سکتے ہیں۔احمدی: پس معلوم ہوا کہ تقدم زمانی انسان کو حقائق تک نہیں پہنچا سکتا۔خصوصا جبکہ یہود اور نصاریٰ میں سے حضرت مسیح کی صلیبی موت کا عینی شاہد کوئی بھی موجود نہیں۔اور ہمارے پاس توریت، انجیل ، قرآن کریم اور تواریخ سے متعدد دلائل اور براہین موجود ہیں جن سے روز روشن کی طرح ثابت ہے کہ حضرت مسیح صلیب پر نہیں فوت ہوئے۔مسیحی: انجیل سے آپ کے پاس کونسی دلیل ہے؟ احمدی: دلائل تو بے شمار ہیں۔لیکن میں اس وقت صرف دو پیش کرتا ہوں۔1 مسیح نے کہا : اس زمانہ کے برے اور زنا کار لوگ نشان طلب کرتے ہیں۔مگر یونس نبی کے نشان کے سوا کوئی اور نشان ان کو نہ دیا جائے گا۔کیونکہ جیسے یونس تین دن رات مچھلی کے پیٹ میں رہا ویسے ہی ابن آدم تین دن رات زمین کے اندر رہے گا۔(متی 12:39) یہ مشابہت صرف اسی صورت میں متحقق ہو سکتی ہے۔جب کہ ہم یہ تسلیم کریں کہ حضرت مسیح بب پر نہیں مرے بلکہ زندہ قبر میں داخل ہوئے اور زندہ ہی نکلے۔