مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 250
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول بڑھ کر مطالعہ کیا ہے۔234 اس مباحثہ کی پوری روداد فلسطین کے عربی رسالہ البشارۃ الاسلامیۃ الاحمدیہ میں مولانا ابو العطاء جالندھری صاحب نے شائع کی۔عیسائی مشنری کر ملی سے گفتگو فلسطین کے ایک مشہور عیسائی مشنری کر ملی جو لغت عرب کے بڑے ماہر سمجھے جاتے اور علامہ کہلاتے ہیں ان کی حیفا میں مبلغ احمدیت حضرت مولانا ابوالعطاء صاحب جالند ہری سے چند نو جوانوں کی موجودگی میں ملاقات ہوئی۔مولانا موصوف نے بعض مذہبی ولغوی امور پر ان سے تبادلہ خیالات کیا۔چونکہ یہ گفتگو بہت دلچسپ ہونے کے علاوہ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ احمدی مبلغ کے دلائل قویہ کے سامنے ایک مشہور عربی دان عیسائی مشنری کے لئے بالکل دم بخود ہو جانے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا۔اس لئے اس کے کچھ حصے ہدیہ قارئین کئے جاتے ہیں۔مسیحی: حضرت مسیح کے متعلق آپ کا کیا خیال ہے؟ احمدی: یہی کہ وہ دیگر انبیاء کی طرح ایک معصوم نبی تھے۔خدا یا ابن اللہ نہیں تھے۔ان کے ذریعہ خدا نے یہود کو ہمارے سید و مولا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آمد کی ایک عظیم الشان بشارت دی تھی۔پھر وہ دیگر انبیاء کی طرح فوت ہو گئے۔انکا مقام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلے میں ایک شاگرد کی حیثیت رکھتا ہے۔چنانچہ رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمایا ہے کہ لو کان موسى وعيسى حيَّين لَمَا وَسَعَهُما إلا اتَّبَاعِی اور اس زمانہ میں بھی خدا نے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت سے بانی جماعت احمدیہ کو حضرت مسیح علیہ السلام سے تمام شان میں افضل پیدا کر کے بتا دیا کہ واقعی رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم تمام انبیاء سے افضل ہیں۔مسیحی مسیح کی موت کا اعتقاد رکھنے میں تو آپ نے ہماری موافقت ظاہر کی۔احمدی حاشا وکلا، ہمارے اور آپ کے عقیدہ میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔آپ مانتے ہیں کہ 33 سال کی عمر میں حضرت مسیح صلیب پر مر گئے مگر ہم اس کی بڑے زور سے تردید کرتے ہیں اور اس کے برخلاف یہ مانے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام 120 سال عمر پا کر فوت ہوئے۔