مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 239 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 239

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 223 شام کی تحریک آزادی اور جماعت احمدیہ جنگ عظیم اول کے بعد شام پر فرانس نے قبضہ کر لیا۔شامیوں نے یہ قبضہ ختم کرنے کا تہیہ کر لیا۔چنانچہ 1925ء کے آخر میں لبنان کی ایک جنگ جو مسلمان پہاڑی قوم نے تحریک آزادی کا علم بلند کر دیا۔شام کی فرانسیسی حکومت نے 57 گھنٹے تک اور بعض خبروں کے مطابق اس سے بھی زیادہ عرصہ تک دمشق پر گولہ باری کی جس سے یہ با رونق شہر تباہ و ویران ہو گیا اور ایسی تباہی آئی کہ تین ہزار سال سے ایسی تباہی اس شہر میں نہیں آئی تھی۔ایسی تباہی کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام ” بلائے دمشق میں بھی دی گئی تھی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے 13 نومبر 1925ء کو دمشق کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الہام اور اس عملی ظہور کی درد ناک تفصیلات سنانے کے بعد اہل شام کی تحریک آزادی کی تائید کرتے ہوئے فرمایا: دمیں اس اظہار سے بھی نہیں رک سکتا کہ دمشق میں ان لوگوں پر جو پہلے ہی بے کس اور بے بس تھے یہ بھاری ظلم کیا گیا ہے۔ان لوگوں کی بے بسی اور بے بسی کا یہ حال ہے کہ باوجود اپنے ملک کے آپ مالک ہونے کے دوسروں کے محتاج بلکہ دست نگر ہے۔میرے نزدیک شامیوں کا حق ہے کہ وہ آزادی حاصل کریں۔ملک ان کا ہے حکمران بھی وہی ہونے چاہئیں۔ان پر کسی اور کی حکومت نہیں ہونی چاہئے۔کیا ان کی یہی حالت ہونی چاہئے کہ انہیں بالکل غلام بلکہ غلاموں سے بھی بدتر بنانے کی کوشش کی جائے۔پس نہ انگریزوں کا اور نہ کسی اور سلطنت کا حق ہے کہ وہ شامیوں کے ملک پر حکومت کریں ، اور نہ ہی فرانسیسیوں کا حق ہے کہ وہ ملک پر جبڑا اقبضہ رکھیں۔شامیوں نے اتحادیوں کی مدد کی اور انہیں فتح دلائی جس کا بدلہ یہ ملا کہ فرانسیسیوں نے ان کے ملک کو تباہ اور ان کے گھروں کو ویران کر دیا۔اس سے زیادہ غداری کیا ت