مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 238
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول سلطان ابن سعود سے ایک اور ملاقات اور اتمام حجت 222 میں نے سلطان سے ملاقات کا انتظام کیا۔میں حاضر ہوا تو مندرجہ ذیل گفتگو سلطان سے ہوئی۔عرفانی: جلالتہ الملک، آپ جانتے ہیں حرمین شریفین کی خدمت کا شرف آپ کو کیوں ملا؟ سلطان: ذلكَ فَضْل اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاء عرفانی: بے شک یہ فضل تو ہے ، مگر اللہ تعالیٰ کے فضل کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔سلطان: میں کچھ نہیں جانتا۔آپ کیا سمجھتے ہیں؟ عرفانی: شریف عون کے زمانہ میں آپ کے جد حج کے لئے آئے تھے مگر شریف عون نے اختلاف عقیدہ کی وجہ سے ان کو روک دیا تھا۔اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند نہ آئی اس لئے شریف کے خاندان سے یہ شرف نکل گیا۔اور آپ آل سعود کو دیا گیا۔سلطان: مرحبا۔عرفانی: میں نے یہ واقعہ آپ کو اس لئے یاد دلایا ہے کہ مکہ معظمہ روئے زمین کے مسلمانوں کا مرکز ہے۔یہاں مختلف عقائد کے لوگ آئیں گے۔اور آپ کے ساتھ بھی بعض کا اختلاف ہوگا۔اگر محض عقائد کے اختلاف کی وجہ سے آپ کسی سے تعرض کریں گے تو یاد رکھیئے کہ خدا تعالیٰ آپ سے یہ خدمت چھین لے گا اور اس کو دے گا جو اختلاف عقائد کی وجہ سے کسی سے تعرض نہ کرے گا۔میرے بیان کا ترجمہ توفیق شریف صاحب جو ان دنوں وزیر معارف تھے کرتے تھے۔اور کچھ نہ کچھ میں خود بھی اپنی ٹوٹی پھوٹی زبان میں بولتا تھا۔سلطان یہ سن کر استغفار کرتے ہوئے کھڑے ہو گئے اور کہا کہ میں انشاء اللہ کبھی ایسا نہیں کروں گا۔اور ساتھ ہی کہا کہ آپ خود موجود ہیں آپ سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔آپ کی شکایت ہوئی اس پر بھی ہم نے توجہ نہیں کی۔اس پر میں نے کہا کہ اسی بات نے مجھے تحریک کی کہ میں یہ حق آپ کو پہنچا دوں۔الحمد للہ میں نے اپنا فرض ادا کر دیا۔از کتاب الحج تالیف مولانا یعقوب علی عرفانی صفحہ 255 تا 278)