مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 240 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 240

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 224 ہوسکتی ہے کہ جس نے ان کو فتح دلائی اسے ہی غلامی کا حلقہ پہنایا جاتا ہے۔۔۔۔بجائے حسن سلوک کے ان پر ظلم کیا گیا۔ان کی جانیں تباہ کی گئیں ، ان کا ملک ویران کیا گیا۔ان کے مال برباد کئے گئے۔پس وہ مظلوم ہیں۔میں ان مظلوموں کے ساتھ ہمدردی رکھتا ہوں۔میں ان لوگوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جنہوں نے قوم کی حریت اور آزادی کے لئے کوشش کی اور اس کے لئے مارے گئے۔پھر میں ان لوگوں کے لئے بھی دعا کرتا ہوں جو زندہ ہیں، اور اسی کوشش میں لگے ہوئے ہیں کہ وہ تباہی سے بچیں اور کامیاب ہوں۔“ الحمد للہ کہ حضور کی یہ دعا جناب الہی میں قبول ہوئی اور بالآ خر فرانسیسی تسلط ختم ہوا اور ایک طویل جد و جہد کے بعد 16 ستمبر 1941ء کو شام میں مسلمانوں کی آزاد حکومت قائم ہوئی۔( خطبات محمود جلد 9 صفحہ 324 تا 339 تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 548-549) حضرت مسیح ناصرتی کی ایک پیشگوئی کا پورا ہونا قادیان میں حضرت مفتی محمد صادق صاحب کے زیر انتظام 29 / جنوری 1926 ء کو ایک منفرد جلسہ ہوا جس میں دنیا کی چوبیس زبانوں میں صداقت مسیح موعود علیہ السلام کے موضوع پر تقریریں ہوئیں۔اس میں عربی زبان میں تقریر حضرت شیخ محمود احمد عرفانی صاحب نے کی۔ان تمام تقاریر کے بعد حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے تقریر فرمائی کہ حضرت مسیح ناصری کے متعلق آتا ہے کہ ان کے حواریوں کے متعلق پیشگوئی تھی کہ وہ غیر زبانوں میں تقریریں کریں گے۔چنانچہ انہوں نے یہودیوں کے مختلف قبیلوں کی زبانوں میں ان کو تبلیغ کی۔مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت کو یہ فضیلت حاصل ہوئی کہ اس میں غیر زبانیں بولنے والے پیدا ہو گئے۔بے شک اب عیسائیت میں مختلف ممالک کے لوگ داخل ہیں مگر حضرت مسیح کے زمانہ میں اور پھر ان کے بعد تین سو سال تک تین چار ممالک میں ہی عیسائیت پھیلی تھی۔پس یہ سب تقریریں اپنی ذات میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کی مستقل دلیل ہیں۔ملخص از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 553-554)