مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 232
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 216 ”میرے نزدیک کسی حکومت کے لئے جائز نہیں کہ وہ مذہبی معاملات میں زبر دستی کرے یا ز بر دستی کسی قوم کے قابل احترام مقامات کو گرائے یا ان پر قبضہ کرے۔پس ہر ایک اسلامی حکومت کے لئے یہ درست نہیں کہ وہ اپنے علاقہ کے مسلمانوں کی عبادت گاہوں یا قابل احترام مقامات کو گرا کر ملک میں فتنہ پیدا کرے۔لیکن ہاں میرے نزدیک دو مقام ایسے ہیں جن میں اگر کوئی مشرکانہ فعل ہوتا ہے تو اسلامی حکومت کے لئے جائز ہے کہ جبر ا اس میں دست اندازی کرے اور ان مقامات کو اپنی حفاظت و نگرانی میں رکھے۔ان مقامات مقدسہ میں سے ایک تو خانہ کعبہ ہے اور دوسرا مسجد نبوی۔۔۔ایک اسلامی حکومت کا حق ہے کہ ان پر اپنا قبضہ رکھے۔۔اور اس قبضہ کی غرض صرف حفاظت ہونی چاہئے نہ کہ ان کے استعمال میں کسی قسم کی مشکل پیدا کرنا۔پس ان دونوں مقامات پر اسلامی حکومت کا قبضہ رہنا چاہئے جو یہ دیکھتی رہے کہ ان کی حفاظت کما حقہ ہو رہی ہے یا نہیں۔اور ان میں کوئی فعل شریعت کے خلاف تو نہیں کیا جاتا۔اگر کیا جاتا ہو تو اسے جبرا روک دے۔مثلاً اگر خانہ کعبہ میں بت پرستی ہو یا قبریں پوجی جاتی ہوں اور اسی طرح مسجد نبوی میں کوئی مشرکانہ فعل ہوتا ہو، تو میں کہوں گا کہ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔اور اس حکومت کا کہ جس کے قبضہ میں یہ دونوں مقام ہوں حق ہے کہ وہ لوگوں کو وہاں ایسا کرنے سے جبر ا روک دے۔“ اس اصولی بات کے بعد حضور نے روضہ رسول عربی صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت فرمایا کہ: پس میں پھر کہتا ہوں کہ کسی اعزاز کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر پر گنبد نہیں بنایا گیا بلکہ اس کی حفاظت کے لئے بنایا گیا ہے۔اور اس غرض کے لئے بنایا گیا کہ تانی آپ کی قبر چھپی رہے۔کسی اعزاز کے لئے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر گنبد کی محتاج نہیں۔اعزاز اگر ہو سکتا ہے تو وہ بجائے خود ہے اور بیرونی کوشش سے نہیں ہوسکتا۔پس اس کی کے لئے کسی گنبد کی یا کسی اور شئے کی ضرورت نہ تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جب زندہ تھے اس وقت صحابہ آپ کی حفاظت کرتے تھے۔پھر کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی وفات کے بعد دشمنوں سے بچانے کے لئے آپ کے جسم مبارک کی حفاظت مسلمان نہ کریں۔یہاں تو ایک گنبد کے لئے شور برپا ہے مگر میں کہتا ہوں حفاظت کے لئے اگر ایک سے زائد گنبد بھی بنانے پڑیں تو بنانے چاہئیں۔آج کل ہوائی جہازوں اور توپ کے گولوں اور دیگر اسی قسم کی ایجادوں سے پل بھر میں ایک عالم کو تباہ کر دیا جا سکتا ہے۔اس لئے آپ کی قبر کی حفاظت کا