مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 231
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول۔۔۔۔۔۔215 نجدیوں کے حامی کہیں گے یہ بھی شریف علی کے آدمی ہیں۔لیکن اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی توقیر کے متعلق آواز اٹھاتے ہوئے شریف کا آدمی چھوڑ کر شیطان کا آدمی بھی کہہ دیں تو کوئی حرج نہیں۔ہم تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر سب سے محبت رکھتے ہیں۔یہاں تک کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام سے بھی اگر کوئی محبت رکھتے ہیں تو صرف اس لئے ہے کہ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام تھے۔اور آپ کو جو کچھ حاصل ہوا اس غلامی کی وجہ سے حاصل ہوا۔بے شک ہم قبوں کی یہ حالت دیکھ کر خاموش رہتے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت اور عزت کی خاطر ہم آواز بلند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ہمارے پاس کوئی طاقت نہیں جس سے ہم نجدیوں کے ہاتھ روک سکیں۔ہاں ہمارے پاس سہام اللیل ہیں۔پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مزار مقدس اور مسجد نبوی کے دوسرے مقامات کو اس ہتھیار سے بچائیں۔ہماری جماعت کے لوگ راتوں کو اٹھیں اور اس بادشاہوں کے بادشاہ کے آگے سر کو خاک پر رکھیں جو ہر قسم کی طاقتیں رکھتا ہے، اور عرض کریں کہ وہ ان مقامات کو اپنے فضل کے ساتھ بچائے۔عمارتیں گرتی ہیں اور ان کا کوئی اثر نہیں ہوتا ، لیکن ان عمارتوں کے ساتھ اسلام کی روایات وابستہ ہیں۔پس ہمیں دن کو بھی رات کو بھی، سوتے بھی اور جاگتے بھی دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ اپنی طاقتوں سے اور اپنی صفات کے ذریعہ سے ان کو محفوظ رکھے اور ہر قسم کے نقصان سے بچائے۔“ ( خطبات محمود جلد 9 صفحہ 246 تا 258 - تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 545 تا 546) معاملات حجاز میں جماعت احمدیہ کا موقف مقامات مقدسہ کی بے حرمتی پر احتجاج کے کچھ عرصہ بعد ایک احمدی دوست نے حضرت خلیفہ اسیح الثانی کی خدمت میں لکھا کہ بعض اہل حدیث اصحاب نے شکایت کی کہ توحید کے مسئلہ میں ہمارے عقائد ایک دوسرے سے ملتے ہیں۔مگر ابن سعود کے معاملہ میں تم لوگ ہماری مخالفت اور حنفیوں کی تائید کرتے ہو۔نیز دھمکی دی کہ آپ لوگ اپنا رویہ نہیں بدلیں گے تو خلافت کمیٹیاں جو اس وقت تک حضور کے لیکچروں کی مؤید ہورہی ہیں تائید کرنا چھوڑ دیں گی۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے اس پر 27 نومبر 1925ء کو ایک مفصل خطبہ دیا جس میں معاملہ حجاز کی نسبت جماعت احمدیہ کے موقف کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرمایا: