مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 218 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 218

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 206 قادیان سے روانہ ہو کر 4 ستمبر 1931ء کو حیفا پہنچے۔مولانا شمس صاحب نے آپ کو مشن کا چارج دیا اور 30 ستمبر 1931ء کو صبح آٹھ بجے مولوی صاحب حیفا سے مصر کے لئے روانہ ہوئے اور 20 دسمبر 1931ء کو قادیان مراجعت پذیر ہوئے۔جہاں حضرت خلیفہ اسیح الثانی بنفس نفیس اپنے خادم کی عزت افزائی کے لئے ریلوے سٹیشن پر تشریف لے گئے۔یوں ایک ہت مختصر لیکن تاریخ احمدیت کا ایک نہایت بھر پور اور نا قابل فراموش باب ختم ہوا۔آپ کے زمانہ قیام میں حیفا اور طیرہ میں دو مستقل جماعتیں قائم ہوئیں اور بلاد عر بیہ کے اہم مقامات مثلاً بغداد، موصل، بیروت، حمص حماه، لاذقیہ اور عمان وغیرہ میں تبلیغی خطوط کے ذریعہ پیغام احمدیت پہنچا۔شام و فلسطین میں آپ کی مندرجہ ذیل کتابیں شائع ہوئیں:۔أعجب الأعاجيب فى نفى الأناجيل لموت المسيح على الصليبـ البرهان الصريح فى إبطال ألوهية المسيح - الهدية السنيّة لفئة المبشرة المسيحية حكمة الصيام ميزان الأقوال توضيح المرام في الرد على علماء حمص و طرابلس الشام - دليل المسلمين فى الرد على فتاوى المفتين مجلة البشری مارچ 1936 ء صفحہ 3 1 ، تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 526-527) مولانا جلال الدین صاحب شمس اس وقت کہا بیر سے گئے جب کہ آپ نے شام فلسطین اور مصر میں جماعت قائم کر لی تھی۔اور متعدد قیمتی کتب تصنیف فرما ئیں۔پھر دوسری دفعہ آپ حیفا اس وقت تشریف لائے جب آپ برطانیہ سے کامیابی کے ساتھ اپنا کام مکمل کر کے واپس قادیان جارہے تھے تو راستہ میں دمشق اور فلسطین سے ہو کر گئے۔اس وقت آپ دمشق سے منیر اکھنی صاحب کو بھی ساتھ لے آئے تھے اور پھر ان کو قادیان بھی ساتھ ہی لے کر گئے۔آپ نے حیفا میں وہ مسجد دیکھی جس کا سنگ بنیاد آپ نے خود رکھا تھا اور آپ کے اعزاز میں کئی پارٹیاں ہوئیں اور نظم و نثر میں آپ کی تعریف میں بہت کچھ کہا گیا۔حضرت مولانا شمس صاحب کی مساعی ایک جائزہ حضرت مولانا شمس صاحب لکھتے ہیں: