مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 219 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 219

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 207 حتی المقدور جماعت کو احمدیت کے رنگ میں رنگین کرنے کے لئے پوری کوشش کی جاتی ہے اور خصوصیات جماعت سے آگاہ کیا جاتا ہے۔“ مولانا جلال الدین شمس صاحب کے بلاد عربیہ میں قیام اور آپ کے عظیم الشان کاموں کے تذکرہ پر اطلاع پانے سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت مولانا صاحب نے کئی اصولوں کو سامنے رکھ کر کام کیا۔چند ایک خلاصہ یہاں ذکر کئے جاتے ہیں جو کہ مبلغین کرام کے لئے مشعل راہ ہیں۔1 مخلص اور با اثر لیکن نیک وصالح افراد کو چن کر تبلیغ کرنا اور بالآخر خدا داد علم ، اعلیٰ خلاق اور بہترین نمونہ سے انہیں گرویدہ کر لینا۔2۔ہر جگہ جماعت قادیان کا رنگ پیدا کرنے کی کوشش کرنا۔کیونکہ جماعت کا وہی اصل مزاج ہے جس کو ہر جگہ رائج کرنے کی ضرورت ہے۔جس میں درس و تدریس کا سلسلہ، جماعتی انتظامی ڈھانچہ کا فوری قیام وغیرہ شامل ہیں۔3۔شروع سے ہی جماعت کے افراد میں چندہ دینے کی عادت پیدا کر دینا۔4۔مسجد بنانے کی کوشش۔انہوں نے بلا د عربیہ میں جو مسجد بنائی وہ آج تک بلاد عربیہ میں اکیلی مسجد ہے۔5۔قادیان کی طرح ہر جگہ مدرسہ احمدیہ کی طرز پر مدرسہ کا اجراء کرنا جس میں دینی تعلیم دی جائے۔6۔اپنی مساعی کی باقاعدہ رپورٹ نہ صرف خلیفہ وقت کی خدمت میں لکھتے رہنا بلکہ اس کو جماعت کے جرائد ومجلات میں چھپواتے بھی رہنا تا کہ تاریخ میں محفوظ ہو جائے اور آئندہ نسلیں استفادہ کر سکیں۔7۔علاقے کی بڑی معروف اور معزز شخصیات تک رسائی اور ان کو تبلیغ کرنا اور انہیں تقاریب میں بلا کر جماعت کی تعلیم سے آگاہ کرنا۔8۔اور سب سے بڑی اور اہم بات یہ کہ ہر احمدی کا مرکز کے ساتھ رابطہ اور مضبوط رشتہ بنادینا تا کہ ہر فر د جماعت عالمی مرکزیت کا حصہ بن سکے۔