مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 217 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 217

205 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول کے لئے 13 پونڈز کا اندازہ لگایا گیا۔انہوں نے 13 پونڈ ز نقد دے دیئے۔ان کی بیوی جو ایک صالح عورت اور مخلص احمدی ہیں ان سے کہنے لگیں : میرا بھی ایک حصہ ہونا چاہئے۔آخر یہ قرار پایا کہ 3 پونڈ زان کی طرف سے ہوں اور 10 پونڈ ز الحاج عبد القادر کی طرف سے۔جماعت احمد یہ کبابیر الفضل 0 3 جولائی 1931 ء صفحہ 2) محترم نواز خان صاحب جو اس عرصہ میں قاہرہ میں مقیم تھے انہوں نے اپنے ایک نوٹ میں جماعت کہا بیر کے بارہ میں لکھا: مولوی صاحب مجھے جماعت کہا بیر سے ملانے کے لئے لے گئے۔جب ہم گاؤں کے قریب پہنچے تو بعض لڑکوں نے مولوی صاحب کو پہچان لیا اور دوڑ کر گاؤں کے لوگوں کو خبر کر دی، جس سے احمدی احباب ہمارے استقبال کے لئے گاؤں سے باہر آگئے۔یہ لوگ اس قدر جوش مسرت سے ملتے تھے کہ معلوم ہوتا تھا کہ گویا مدت سے بچھڑے ہوئے عزیزوں سے مل رہے ہیں۔ان میں سے بعض سو سو سال کے بوڑھے بھی تھے۔انہیں میں نے دیکھا جب وہ معانقہ کرتے تھے تو فرط محبت سے زار زار روتے تھے۔ان کے اس عاشقانہ جوش و اخلاص نے ہمیں بھی رُلا دیا۔فی الحقیقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ایک زبر دست معجزہ تھا کہ اس قدر دور کے ملک میں پہاڑ کی چوٹی پر بسنے والی قوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ایمان لاتی ہے اور اخلاص و محبت میں اس قدر ترقی کر جاتی ہے کہ دیار محبوب کے رہنے والے ایک احمدی کو دیکھ کر اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرتی ہے۔اس وقت کا یہ نظارہ اس قدر دلکش تھا جو مجھے ساری عمر نہیں بھولے گا۔اس گاؤں کے احمدیوں کی مجموعی تعداد سو سے زائد ہے جن میں بعض عالم اور بعض شاعر بھی ہیں۔ہر وقت ہمارے پاس احباب بیٹھے رہتے ہیں۔نماز کے وقت بہت سے احباب اپنا کام چھوڑ کر آ جاتے اور چھوٹی سی مسجد بھر جاتی تھی۔الفضل 11 دسمبر 1930 ، صفحہ 6) حضرت شمس صاحب کی بلاد عر بیہ سے کامیاب واپسی 13 /اگست 1931ء کو حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم سے مولانا ابو العطاء صاحب