مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 207 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 207

195 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول طاقت دیکھ کر ایک دن ایک عیسائی پطرس نامی نے کہا: کاش تم مسیحی مشنری ہوتے۔عیسائیت کے لئے تمہارا وجود خسارہ ہے۔احمدی مبلغ نے کنیسہ امریکان میں شیخ کامل منصور سے، ڈاکٹر فلپس امریکان سے اور کو بری سیمون پر انجمن تبشیر مسیحی کے انچارج سے ، جمعیتہ شرف میں پادری پطرس اور وہاں کے سیکرٹری سے اور ایک انجمن إنجيل للجميع میں مباحثات کئے اور خدا تعالیٰ نے کامیابی دی۔اب جب عیسائیوں نے مباحثات سے انکار کر دیا ہے احمدی مشنری نے دوسرا حملہ ایک ٹریکٹ کے ذریعہ سے ان پر کیا ہے جو دو ہزار شائع کیا گیا ہے۔اس ٹریکٹ کا نام تحقیق الفضل 11 / مارچ 1930ء صفحہ 2-3 بحوالہ خالد احمدیت جلد اوّل صفحہ 226-227) الادیان ہے۔آخرین کے ابن عباس حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے مصر پہنچنے پر مشورہ سے طے پایا کہ وہاں ایک پبلک لیکچر ہو۔لیکچر کے لئے عصمت انبیاء کا موضوع تجویز ہوا۔مکارم اخلاق سوسائٹی کے تحت ہونے والے اس لیکچر کا اعلان کر دیا گیا اور لوگوں کو شمولیت کی دعوت دی گئی۔اس موضوع پر مولانا شمس صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے علم کلام کی روشنی میں اس خوبی سے لیکچر دیا کہ اپنے اور بیگانے سب متاثر ہوئے۔جماعت کے سیکرٹری عبد الحمید آفندی نے قادیان آ کر بیان کیا کہ لیکچر سننے کے بعد ہم سب احمدیوں نے خوشی سے محترم مشمس صاحب کو کندھوں پر بٹھا لیا اور دور تک اٹھا کر لے گئے۔جلسہ کے اختتام پر ایک بڑے ادیب نے سب دوستوں کو ٹھہرا لیا اور آدھ گھنٹہ کے قریب مولا نا شمس صاحب کی مدح اور تعریف کرتا رہا۔اس نے بیان کیا کہ ایسا لیکچر آج تک ہم نے کبھی نہیں سنا تھا۔ایک فقرہ جو آپ کی تعریف میں کہا گیا وہ یہ تھا۔وَاللَّهِ إِنَّهُ لَابْنُ عَبَّاسِ فِيْنَا، یعنی واللہ یہ شخص ہم میں حضرت ابن عباس کے مقام پر ہے۔الفضل 20 /اکتوبر 1966 ، صفحہ 3 بحوالہ خالد احمدیت جلد اول صفحہ 228-229 ایک پادری سے مناظرہ اور مصر کا پہلا احمدی مکرم منیر الحصنی صاحب اس مناظرہ کی روداد تحریر فرماتے ہوئے لکھتے ہیں: