مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 206 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 206

194 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول جن میں سکول بھی تھے۔مسلمانوں کی اولاد کو مسیحی مدارس کے قوانین کے مطابق گر جاؤں میں نماز کے لئے مجبور کیا جاتا تھا۔اور ہزاروں پونڈ ز ہر ماہ عیسائیت کی تبلیغ کے لئے خرچ کئے جاتے تھے۔اس سلسلہ میں تقریبا چار یا پانچ رسالے نکالے جاتے تھے۔عیسائیت کی اس پر زور رو کے بالمقابل مسلمانوں کی کوشش صفر تھی۔بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ عام مسلمانوں کی حیثیت ایک خاموش تماشائی سے زیادہ نہ تھی۔اور جہاں تک علماء کا تعلق ہے تو ازہر کے بعض تعلیم یافتہ شیخ عیسائی ہو چکے تھے اور اعلانیہ عیسائیت کا پرچار کرنے لگے تھے۔دیہات میں عیسائی بنانے کی تحریک زوروں پر تھی۔ان حالات کے پیش نظر ان دونوں مجاہدوں نے مسیحیوں کا مقابلہ کرنے کی ٹھانی اور ان کے مشنوں اور گرجوں میں جا کر مناظرے کئے۔(ماخوذ از الفضل 7 فروری 1930 ، صفحہ 2 ، رپورٹ مجلس مشاورت 1930 ء صفحہ 159-60۔بحوالہ خالد احمد بیت جلد اوّل صفحہ 223 224 ، 228، سلسلہ احمدیہ صفحہ 379 مجلة البشری مارچ 1936 صفحہ 13 کاش تم مسیحی مشنری ہوتے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اور منیر الحھنی صاحب کی مصر میں تبلیغی مساعی کے بارہ میں مکرم محمود احمد عرفانی صاحب اپنے ایک مضمون میں تحریر فرماتے ہیں: یہاں جس قدر مسیحی جماعتیں ہیں ان کے کیمپ پر جا کر منیر اور شمس نے ہجوم کیا۔اور ان کی زبانیں جو اس سے پیشتر اسلام کے خلاف چلتی تھی بند کر دیں۔مسیحی متاد جو روزانہ یہاں کے علماء کو تنگ کرتے تھے ، احمدی مبلغین کے دلائل سن کر دنگ رہ گئے اور بول اٹھے کہ ہم احمدیوں سے بحث نہیں کرتے۔ان مباحثات کا یہ اثر ہوا کہ نو جوانوں کی ایک جماعت مولوی جلال الدین صاحب کی طرف مائل ہو گئی اور اسلام کی تعلیم سننے لگی۔ان میں سے ایک مسیحی ہو چکا تھا اس نے مسیحیت کے طوق کو اپنے گلے سے اتارا اور اسلام قبول کر کے احمدیت میں داخل ہو گیا۔دو اور نو جوان اس کے ساتھ سلسلہ میں داخل ہوئے۔اس طرح ان مباحثات کے نتیجے میں تین نوجوان ہمیں ملے۔باقی نوجوانوں پر بھی گہرا اثر ہے اور وہ احمدیت کے اثر کو قبول کرنے لگ گئے ہیں۔عیسائی حلقوں میں بہت شور پڑ گیا اور ان کو سخت پریشانی ہوئی۔احمدی مبلغ کے دلائل کی