مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 208
196 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول میں موسمی تعطیلات گزارنے کے لئے دمشق سے کچھ فاصلہ پر بلودان نامی ایک پہاڑی گاؤں میں گیا۔وہاں کے پادری ملحم الذهبيه نامی سے ملنے کا اتفاق ہوا۔وہاں قیام کے دوران اس پادری سے کئی مباحثات ہوئے جن کے نتیجہ میں آخر کار اسے راہ فرار اختیار کرنا پڑی اور اس نے یہ کہہ کر مجھ سے اپنا پیچھا چھڑایا کہ گو میں آپ کے دلائل و براہین کا جواب نہیں دے سکتا لیکن مصر میں ایک بڑے پادری صاحب ہیں وہ آپ کے تمام اعتراضات کا جواب دیں گے۔میں نے مولانا شمس صاحب کو جو ان دنوں مصر میں تھے لکھا کہ وہ اس پادری سے مل کر تبادلہ خیالات فرما ئیں لیکن مصر کے تمام پادریوں نے الوہیت مسیح" وغیرہ میں سے کسی موضوع پر بھی شمس صاحب سے مناظرہ نہ کیا اور کوئی بھی مقابلہ پر نہ آیا۔شمس صاحب نے بڑی تحدیان سے ایک رساله البرهان الصريح فى إبطال ألوهية المسيح لکھ کر تمام پادریوں کو چیلنج کیا کہ اس کا رد لکھیں۔مگر کسی کو اس کا جواب دینے اور چیلنج قبول کرنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔۔کچھ عرصہ بعد بحیثیت مبلغ آپ دوبارہ مصر تشریف لے گئے۔مجھے بھی آپ کی ہمرکابی کا شرف حاصل ہوا۔مصر پہنچنے پر ہم نے دیکھا کہ بعض امریکی مشن بعض خاص دنوں میں علی الاعلان مسیحیت کی تبلیغ کرتے ہیں اور مصر کے علماء باوجود کثرت کے کوئی بھی ان کی تردید کے لئے نہیں آتا۔اور وہ لگا تار اسلام اور بانی اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف مسلمان نو جوانوں میں زہر پھیلا رہے ہیں۔اس پر خاکسار اور شمس صاحب ایک مشن ہاؤس میں گئے۔وہاں ہم نے دیکھا کہ ایک مسیحی عرب شیخ کامل منصور نامی صداقت انا جیل پر لیکچر دے رہا ہے اور یہ کہہ رہا ہے کہ دیکھوانا جیل کی اشاعت کسی جنگ و جدال کی مرہون منت نہیں بلکہ وہ اپنی روحانی قوت سے اکناف عالم میں پھلیں۔لیکچر کے اختتام پر میں نے اس سے کہا: صداقت انا جیل پر شمس صاحب سے پبلک مناظرہ کر لوتا لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ واقعہ موجودہ اناجیل الہامی اور خدا کی طرف سے ہیں۔اس پر اس نے فوراً میری دعوت قبول کر لی۔اور خیال کیا کہ خوب شکار ہاتھ آیا ہے۔اس نے ہماری دعوت پر بہت خوشی کا اظہار کیا کیونکہ اسے خیال تھا کہ اس کے دلائل لا جواب ہیں۔لیکن مناظرہ شروع ہونے پر جب اسے اپنے دلائل کا بودا پن معلوم ہوا اور لوگوں پر اس کے خلاف برا اثر پڑنے لگا تو اس نے ہم سے درخواست کی کہ بقیہ بحث کسی آئنده روز پر ملتوی کر دی جائے۔لیکن جب دوسری مرتبہ مناظرہ شروع ہوا تو پہلی دفعہ سے بھی