مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 205 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 205

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 193 مولا نا جلال الدین شمس صاحب کی مصر میں مساعی فلسطین میں رہائش کے دوران آپ نے حضرت خلیفتہ اسیح الثانی کے حکم سے اپنے دائرہ تبلیغ میں مصر کو بھی شامل کر لیا اور اپنے وقت کو تقسیم کر کے دونوں ملکوں میں تبلیغ کا سلسلہ شروع کر دیا۔آپ دودفعہ چھ چھ ماہ کے لئے مصر تشریف لے گئے۔پہلی دفعہ دسمبر 1929ء میں اور دوسری دفعہ اگست 1930 ء میں۔مناظره بر وفات مسیح مولانا جلال الدین صاحب شمس 7 / دسمبر 1929ء کو حیفا سے مصر کو روانہ ہوئے۔ان کے ہمراہ مکرم منیر اکھنی صاحب بھی تھے۔یہاں پر آ کر بعض امراء سے ملاقاتوں اور وفات مسیح پر جامعہ ازہر کے تعلیم یافتہ ایک شیخ سے مناظرہ ہوا جس میں شیخ موصوف کو شدید ہزیمت اٹھانی پڑی۔بعض حاضرین نے تو شیخ صاحب کو منہ پر کہہ دیا کہ آپ نہ تو اپنی کسی دلیل کو ثابت کر سکے اور نہ ہی وفات مسیح پر پیش کردہ دلائل کو ر ڈ کر سکے۔پہلے تو یہ شیخ کہتا تھا کہ میں ہر روز آپ سے گفتگو کے لئے وقت نکال سکتا ہوں۔لیکن اب اس ہزیمت کے بعد اس نے گفتگو کرنے کا نام تک نہ لیا۔۔مصر میں عیسائیت کی یلغار کا ایک جائزہ ازاں بعد مکرم مولا نا جلال الدین صاحب شمس اور مکرم منیر الحصنی صاحب ان دونوں بزرگوں نے وہاں کے عیسائی مشنوں کے بارہ میں معلومات حاصل کیں جس کا خلاصہ کچھ یوں نی تھا کہ اس وقت وہاں پانچ چھ عیسائی مشن کام کر رہے تھے۔جن کی نہایت عالیشان عمارتیں تھیں