مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 203
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 191 فلسطین کے کچھ ایمان افروز واقعات میری بیعت لیجئے حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس لکھتے ہیں: عید الفطر پر ایک دمشقی عالم شیخ ابراہیم طیب المغر بی شاذلی طریقہ (صوفیوں کا ایک فرقہ ) کے اپنے شاذلی دوستوں کو ملنے کے لئے حیفا تشریف لائے۔عید کے تیسرے روز ایک مشہور شاذلی شاعر نے مجھے اپنے مکان پر دعوت دی اور شیخ ابراہیم طیب بھی مدعو تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تاریخ حیات اور آپ کے دعاوی کے متعلق تقریبا پانچ گھنٹہ تک گفتگو ہوئی۔اختتام مجلس پر انہوں نے کہا کہ یہ اجتماع ہمارے لئے لیلتہ القدر کی طرح ہے۔اس کے دو دن بعد شیخ ابراہیم طیب میری ملاقات کے لئے آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ سننے کا شوق ظاہر کیا۔میں نے خطبہ الہامیہ کے تقریبا ساٹھ صفحے سنائے۔پھر انہوں نے جماعت میں داخلہ کی شرائط دریافت کیں۔پھر کہا کہ ہاتھ بڑھائیے اور میری بیعت لیجئے۔پھر دورکعت نماز پڑھ کر انہوں نے بیعت کی۔ان کا شاذلیوں پر اچھا اثر ہے۔الفضل 17 مئی 1929 ء صفحہ 7۔بحوالہ خالد احمدیت جلد اوّل صفحہ 254) احمدیت۔مسیحیت کے لئے کاری ضرب حیفا میں عید کے دوسرے روز چند غیر احمدی ایک مسیحی کو میرے پاس لے آئے اس نے انہیں ایک کتاب مطالعہ کے لئے دی تھی۔۔۔جب ایک ہفتہ بعد ان سے دریافت کرنے کے لئے آیا تو انہوں نے کہا کہ ہم تو ان باتوں کا جواب نہیں دے سکتے۔چلو احمدی شیخ کے پاس چلتے ہیں۔وہ اسے لے آئے۔ظہر سے عصر تک گفتگو ہوتی رہی۔آخر اس مسیحی نے میری تمام باتوں کو