مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 194 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 194

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول پھر لکھا ہے: 182 ہمار یہ اعتقاد ہے کہ علماء اور شیوخ اس جرم کو نہایت برا خیال کرتے ہیں۔یہ فعل جہلاء کا ہے جو انہوں نے اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے کیا ہے۔حالانکہ اللہ تعالیٰ اور اسلام ان کے اس فعل سے بلند اور پاک ہیں۔(ماخوذ از الفضل 14 فروری 1928ء صفحہ 6 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اوّل صفحہ 189 تا 192 ) مولا نائٹس صاحب کو دمشق چھوڑنے کا حکم مولا نائٹس صاحب کچھ عرصہ زیر علاج رہ کر مؤرخہ 18 جنوری 1928ء کو ہسپتال سے ڈسچارج ہو گئے، لیکن اس کے بعد علماء کی شورش کی وجہ سے شام کی فرانسیسی حکومت نے آپ کو دمشق میں مزید ٹھہرنے کی اجازت نہ دی۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے حکم سے آپ نے منیر اکھنی صاحب کو دمشق میں اپنا قائمقام امیر مقرر کر دیا اور 17 / مارچ 1928 کو دمشق۔نکل کر فلسطین میں آگئے ، اور حیفا میں اپنا مرکز قائم کر لیا۔(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 525 - سلسلہ احمدیہ صفحہ 378-379) حضرت مولا نائٹس صاحب حیفا میں مکرم طه قزق صاحب مرحوم سابق صدر جماعت ار دن لکھتے ہیں: مولا نا جلال الدین صاحب شمس جب حیفا تشریف لائے اور شارع الناصرہ پر ریلوے سٹیشن کے قریب کرائے کے گھر میں رہنے لگے۔میرے والد میرے چچا اور ایک دوست مکرم رشدی بسطی صاحب بھی ان دنوں ریل کے محکمے میں کام کرتے تھے۔انہی دنوں اخباروں نے لکھنا شروع کیا کہ حیفا میں ایک مبلغ آئے ہیں اور ایسے عقائد کی طرف بلاتے ہیں جن کو لوگ نہیں جانتے۔رشدی بسطی صاحب مولانا جلال الدین صاحب شمس سے ملنے گئے اور متعدد ملاقاتوں کے بعد بیعت کر لی۔اس کے بعد میرے والد صاحب بھی ان سے ملنے گئے اور جب واپس آئے اور سوئے تو