مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 195 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 195

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اوّل 183 خواب میں ان کو آواز سنائی دی کہ جلدی کرو، احمدی تو اب مدینہ منورہ کے بھی متولی بن گئے ہیں۔چنانچہ وہ اگلے دن ہی گئے اور بیعت کر لی۔میرے والد صاحب دیسی جڑی بوٹیوں سے علاج و معالجہ کیا کرتے تھے اور اس میں بڑے حاذق طبیب تھے۔آپ کو مطالعہ کا بہت شوق تھا خصوصا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب بڑی کثرت سے پڑھا کرتے تھے اور اکثر حضور علیہ السلام کے عربی قصائد کے اشعار گنگناتے رہتے تھے۔میرے والد صاحب کے بعد میرے چچا نے بیعت کی۔وہ میرے والد صاحب کے ساتھ ہی ایک گھر میں رہتے تھے اور ایک بزرگ انسان تھے۔انہوں نے خواب میں دیکھا تھا کہ ان کے گھر جلال الدین نامی شخص آیا ہے اور انہوں نے اس کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔چنانچہ جب میرے والد صاحب نے مولانا جلال الدین صاحب کو بیعت کے بعد اپنے گھر مدعو کیا تو میرے چچا نے بھی بیعت کر لی۔ان کے بعد اہل کہا بیر میں سے کافی احباب نے جماعت میں شمولیت اختیار کی۔اس سے قبل وہ شاذلی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے۔میرے والد صاحب الحاج محمد القزق صاحب کے دو چیرے بھائی تھے ان میں سے ایک نہایت مخالف بن گیا چنانچہ وہ بعض بد بختوں کو بھیج کر میرے والد صاحب پر گندے ٹماٹر اور مالٹے پھینکوایا کرتا تھا۔جبکہ دوسرا آبادی سے دور پہاڑی علاقے میں رہتا تھا اور نہایت بہادر اور اثر و رسوخ والا آدمی تھا۔ان دنوں وہاں پر ایک مولوی نے جوش میں آ کر یہ اعلان کیا کہ احمدی کافر ہیں اور ان کا قتل جائز ہے۔جب اس شخص نے مولوی کی یہ بات سنی تو فورا کہا : احمدیوں کی طرف بڑھنے والا ہاتھ ان تک پہنچنے سے قبل کاٹ دیا جائے گا۔میں احمدی نہیں ہوں لیکن ابھی جا کر اپنے احمدی ہونے کا اعلان کرتا ہوں، اور جس میں ہمت ہے وہ میرے سامنے آکے دکھائے۔چنانچہ یہ اسی وقت ہمارے گھر آئے اور ہمیں ساری کہانی سنائی۔مولوی بعد میں انگریزوں کے خلاف بغاوت میں شریک ہوا اور اسی میں مارا گیا۔مولانا جلال الدین صاحب شمس کا حیفا میں پہلا مناظرہ شیخ کامل القصاب کے ساتھ ہوا جس میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔یہ شیخ شام سے بھاگ کر آیا تھا اور فرانسیسی قابضوں کے خلاف جدو جہد میں مصروف تھا۔اس وقت فرانسیسیوں اور انگریزوں کے درمیان تعلقات تناؤ کا شکار تھے۔اور فرانسیسیوں کے شام پر قبضہ کی وجہ سے کئی جنگجو بھاگ کر فلسطین