مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 193 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 193

181 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول اور لوگوں کی زبانوں پر جاری ہے وہ یہی ہے کہ یہ اشخاص شیخ هاشم الخطيب اور شیخ على الدقر کی طرف سے بھیجے گئے تھے۔اگر یہ بات صحیح ہو تو انہیں سخت سزا دینی چاہئے۔اخبار المقتبس نے مندرجہ ذیل چار عنوان دیئے: حرية الفكر والعقيدة (آزادئ فكر وعقيده) تعالى الله عما يعملون ( اللہ تعالیٰ اس سے بہت بلند ہے جو کسب وہ کرتے ہیں)۔۔۔۔۔الإسلام دین تسامح و هداية (اسلام رواداری اور رشد و ہدایت کا مذہب ہے )۔۔۔۔۔الاعتداء السافل على المبشر الأحمدى (احمدی مبلغ پر بزدلانہ حملہ ) ان عنوانات کے ماتحت لکھا ہے: گزشتہ ہفتہ کی خبروں میں سے ایک خبر یہ تھی کہ چند اشخاص نے شیخ جلال الدین شمس المبشر الأحمدی الھندی کو جبکہ وہ اپنے گھر میں داخل ہونے لگے تھے چھری سے چند زخم لگائے اور اسے حیات اور موت کے درمیان زخمی چھوڑ کر بھاگ گئے۔۔۔۔پھر لکھا ہے: اسلام جہلاء کے ایسے برے افعال سے پاک ہے۔وہ ایک سیدھا راستہ ہے جو بھلائی کا حکم دیتا اور بھلائی سے منع کرتا اور کسی نفس کا بدون حق کے قتل حرام قرار دیتا ہے۔کہتے ہیں کہ اس جرم کے ارتکاب کا باعث ایک پر جوش مباحثہ تھا جو استاد مبشر اور بعض جہلاء مسلمین کے درمیان ہوا۔اس وقت بعض نے ان کو دفتر میں ہی مارنے کا ارادہ کیا۔لیکن ان کے اور ان کے بد ارادہ کے پورا ہونے کے درمیان مسلمانوں کا ایک سنجیدہ گروہ حائل ہو گیا۔اور مجمع کسی ناخوشگوار واقعہ کے بغیر ہی منتشر ہو گیا۔لیکن ان کے کینہ اور غصہ سے بھرے ہوئے دل استاد مبشر پر غیظ و غضب سے بھر گئے اور گردشوں کا انتظار کرنے لگے۔رستوں کے موڑوں پر اس کو اچانک قتل کرنے کے قصد سے چھپ کر گھا تیں لگانے لگے۔اس کی نسبت جھوٹی افواہیں اڑانے لگے۔اسے برطانوی استعمار کی تائید کی تہمتیں لگانے لگے۔اور یہ کہنے لگے کہ مذہب احمدی کا بانی یہ کہتا ہے کہ اسلام کی نجات اسی میں ہے کہ وہ دولت برطانیہ کے حکم کے سامنے جھک جائے۔وقوع جرم اور حدوث خیانت سے پہلے یہ حالت تھی اور لوگوں کا یہی خیال ہے کہ اسی سبب سے مجرموں نے اس بد جرم کا ارتکاب کیا ہے۔