مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 189
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 177 ایسے کئی واقعات ہو چکے ہیں۔اس لئے ان کو دیکھتے ہوئے میں مستبعد نہیں سمجھتا تھا کہ میرے ساتھ بھی ایسا ہو مگر صدق اور حق کی قوت تھی جو میرے دل کو کبھی خوفزدہ نہ ہونے دیتی تھی! جب کبھی ایسا خیال آتا تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کا یہ شعر زبان پر آ جاتا تھا: وَلَسْتُ أَخَافُ مِنْ مَوتِي وَقَتْلِي إِذَا مَا اور كَانَ مَوْتِي فِي الْجِهَادِ ( یعنی میں اپنے قتل اور موت سے ہرگز نہیں ڈرتا اگر وہ مجھے خدا کی راہ میں جہاد کرتے ہوئے آئے۔ناقل ) دوسرے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی کتاب تذکرۃ الشہادتین میں ایک عبارت ہے جو ہمیشہ میری آنکھوں کے سامنے رہتی ہے۔مجھے خوب یاد ہے جب میں نے اسے پہلی بار پڑھا تو اس نے میرے جسم میں ایک بجلی کی سی تاثیر کی تھی۔اس وقت میں ردیا تھا۔اور اسی وقت خدا تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ اے خدا ہمیں بھی سید عبد اللطیف شہید سا صدق و استقامت عطا فرما۔اس عبارت کے الفاظ تقریبا یہ ہیں: اے عبد اللطیف تیرے پر خدا تعالیٰ کی ہزاروں رحمتیں ہوں کہ تو نے میری زندگی میں صدق وصفا واستقامت کا نمونہ دکھایا۔جو میرے بعد آئیں گے میں نہیں جانتا کہ وہ کیسا نمونہ دکھائیں گے۔اس طرح میرے ایک معزز دوست نے قادیان سے لکھا کہ اگر دمشق کی بجائے جدہ میں آپ جا کر تبلیغ کریں تو وہاں سے سب ممالک میں تبلیغ کر سکیں گے۔تو میں نے انہیں یہی جواب دیا تھا کہ میں تو حکم کا بندہ ہوں جیسا حضرت صاحب ارشاد فرمائیں گے بجالاؤں گا۔لیکن اگر مجھ پر چھوڑا جائے تو میں اس بات کو ترجیح دوں گا کہ یا تو تبلیغ کرتے کرتے یہاں کی فوت ہو جاؤں یا اللہ تعالیٰ مجھے ایک مستقل مخلص جماعت عطا فرمائے۔22 دسمبر 1927ء کو مغرب کی نماز پڑھ کر اپنے گھر سے نکلا تا کوئی کھانے کی چیز خریدوں۔چونکہ دن جمعرات تھا اور اس دن رات کو سب احمدی میرے مکان پر جمع ہوتے ہیں۔بازار دور ہونے کی وجہ سے وہاں جانا نہ چاہا۔میرے مکان کی گلی سے باہر نکلتے ہی ایک دکان ہے وہاں سے چنے خرید کر واپس اپنے گھر چلا۔مکان سے چھ سات قدم کے فاصلہ پر ایک چھوٹا سا موڑ ہے جہاں مغرب ہوتے ہی اندھیرا چھا جاتا ہے۔جب وہاں پہنچا تو میں نے ی