مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 188
176 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول یقین رکھتا ہوں کہ وہ سعید الفطرت ہے اور وہ بدلہ دینے کے لئے بھی تیار ہے اس لئے اس کو ی معاف کرتا ہوں اور حضرت مسیح علیہ السلام کے مذکورہ بالا قول کی تفسیر عملی طور پر دیتا ہوں۔دیکھو جس نے میرے بھائی کو مارا میں اس کے سامنے اپنا گال پیش کرتا ہوں ، اگر چاہے تو اس پر بھی تھپڑ مارے۔اس پر انہوں نے ضارب کے قریب اپنا گال کیا تو اس نے اس پر تھپڑ مارنے کی بجائے بوسہ دے دیا۔یہ ایک ایسا منظر تھا کہ تمام حاضرین کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے۔(ماخوذ از الفضل یکم اکتوبر 1929 ء صفحہ 1-2 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اوّل صفحہ 240-242 مولا ناشس صاحب پر قاتلانہ حملہ حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحب نے عیسائیت کے خلاف محاذ پر کامیاب تبلیغی جہاد کرنے کے علاوہ علماء ومشائخ کا بھی مقابلہ کیا۔وہاں کے علماء کا طبقہ ملک میں احمدیت کے پاؤں جمتے دیکھ کر سخت برافروختہ ہو گیا۔چنانچہ انہوں نے آپ کے دلائل و براہین کا بھی وہی جواب دیا جو ہمیشہ حق کے مخالفین دیا کرتے ہیں۔یعنی دسمبر 1927ء میں آپ پر خنجر سے قاتلانہ حملہ کرایا گیا۔حضرت مولانا شمس صاحب خود اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہیں کہ : تفصیل حادثہ یہ ہے کہ پہلے تو مجھے مدت سے خطوط میں قتل کی دھمکیاں دی جاتی تھیں۔چنانچہ ٹریکٹ الجہاد الا سلامی (جس میں میں نے ثابت کیا تھا کہ اس وقت دین کے لئے قتال جائز نہیں بلکہ یہ زمانہ تبلیغ کا زمانہ ہے) کے بعد مشائخ کی طرف سے یہ خط آیا کہ چونکہ تم جہاد دینی اور دین کے لئے قتال کو حرام قرار دیتے ہو اس لئے ہم پر تمہارا خون گرانا واجب ہے۔پھر دو ماہ سے جب میں نے ان کے پینج مباحثہ کا جواب دیتے ہوئے شرائط مناظرہ شائع کیں اور لکھا کہ مناظرہ تحریری ہونا چاہئے اور فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِی کے موت کے سوا آسمان پر اٹھا لینے کے معنی ثابت کرنے پر تین ہزار قرش انعام مقرر کر دیا، اور علاوہ ازیں پانچ چھ اشخاص بھی سلسلہ میں داخل ہو گئے تو پھر انہوں نے منبروں پر مساجد میں لوگوں کو اکسانا شروع کیا اور کہا کہ تم اس ہندی سے ملو نہ اس کی کتابیں پڑھو۔اور مزید برآں انہوں نے مخفی کمیٹیاں بھی کیں جن میں قتل وغیرہ کے مشورے کرتے رہے۔جب سے یہاں جنگ شروع ہوئی ہے