مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 179
167 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول پھاڑتا جاتا اور چمنی کی طرف اشارہ کیا کہ وہ دیکھو ڈھیر۔جب اللہ اکبر کی آواز میرے کان میں پڑی تو میرے نفس نے مجھے کہا: صداقت بہت بڑی شئے ہے اور تمہارا اس طرح بناوٹ سے رڈ کرنا درست نہیں۔میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں اب ایک کلمہ مخالفت کا مجھ سے نہیں سنیں گے۔آپ کے خیالات سراسر اسلامی ہیں اور آپ آزادی سے تبلیغ کریں اور پوچھنے والوں سے میں آپ کے حق میں اچھی بات ہی کہوں گا۔لیکن میں آپ کے فرقہ میں داخل نہیں ہوں گا کیونکہ فرقہ بندی سے مجھے نفرت ہے۔۔۔۔اور مرحوم آخری دم تک جماعت کی تعریف ہی کرتے رہے۔گرانقدر مساعی ( حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب، تالیف احمد طاہر مرزا صفحہ 27 تا 29 ) حضرت شاہ صاحب نے دمشق میں اپنے مختصر قیام کے دوران عربی زبان میں ترجمہ و تالیف کا عظیم الشان کام سر انجام دیا۔آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب "کشتی نوح کا عربی میں ترجمہ کیا۔ایک ٹریکٹ الحقائق عن الأحمدية‘ چھپوایا اور ایک مبسوط كتاب "حياة المسيح ووفاته “ کے نام سے شائع کی جس کا عیسائیوں کے علاوہ بڑے بڑے مسلمان علماء اور فلاسفروں پر بھی بہت گہرا اثر پڑا۔چنانچہ مصر کے مشہور مفکر احمد زکی پاشا نے تسلیم کیا کہ وفات مسیح کے متعلق جو تحقیق احمدیوں نے کی ہے اس سے اسلام کی برتری ثابت ہوتی ہے اور عیسائیت پر کاری ضرب لگتی ہے۔نیز انہوں نے کہا کہ اگر احمدیت وفات مسیح سے متعلق اس تحقیق کے سوا اور کچھ نہ بھی پیش کرتی تب بھی یہ بات ان کے لئے تمام مسلمان فرقوں پر فخر اور برتری کے لئے کافی ہوتا۔ان کے علاوہ محسن البرازی بیک نے ( جو حکومت شام کے سابق وزیر تھے ) کہا کہ افسوس اگر میرے دنیوی مشاغل مانع نہ ہوتے تو سب سے بہترین کام جس کے اختیار کرنے میں فخر کرتا وہ تبلیغ اسلام تھا جسے احمدی انجام دے رہے ہیں۔دمشق سے واپسی ان دنوں عراق میں امیر فیصل اول کی حکومت تھی۔وہاں پر جماعت کا کوئی مرکزی مبلغ