مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 178 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 178

166 مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول لفظ ہی نہیں۔۔۔۔مولانا شمس صاحب نے تاج العروس ( عربی لغت کی کتاب) الماری سے نکالی اور وہ لفظ نکال کر دکھائے۔سامعین کو حیرت ہوئی اور میں نے اس موقعہ کو غنیمت سمجھتے ہوئے کہا: " کہلاتے تو آپ ادیب ہیں لیکن آپ کو اتنی عربی بھی نہیں آتی جتنی میرے شاگرد کو۔شمس صاحب ان دنوں مجھ سے انگریزی پڑھتے تھے ) اس پر انہیں بڑا غصہ آیا اور یہ کہتے ہوئے اٹھے اور کمرے سے باہر چلے گئے أريك غدا نجوم الظهر كل میں تمہیں ظہر کے تارے دکھاؤں گا ( یہ عربی زبان کا محاورہ ہے۔اُردو زبان میں اس کے بالمقابل کہتے ہیں: دن میں تارے دکھانا۔ناقل )۔میں نے یہ محسوس کرتے ہوئے کہ سامعین میں سے کچھ متاثر ہیں ان سے کہا: یہ میرے پرانے دوست ہیں۔صلاح الدین ایوبیہ کالج میں علم ادب پڑھایا کرتے تھے اور سامعین کو علم تھا کہ میں بھی وہاں پڑھایا کرتا تھا۔میں نے کہا انہیں خطبہ الہامیہ پڑھ کر ایسی رائے کا اظہار نہ کرنا چاہئے تھا۔بجائے ناواقف ہونے کے انہیں حق بات مان لینی چاہئے تھی۔جب دوست چلے گئے اور شام ہو گئی تو شمس صاحب نے مجھ سے کہا: حضرت خلیفہ انی نے الوداع کرتے وقت آپ کو یہ نصیحت کی تھی کہ شیخ عبد القادر المغربی سے نہیں بگاڑنا۔وہ آپ کے دوست ہیں اور ان کا شہر میں بڑا اثر ہے۔میں نے شمس صاحب سے کہا: فکر نہ کریں، وہ میرے دوست ہیں ، میں انہیں ٹھیک کرلوں گا۔کل صبح ہم دونوں ان کے پاس جائیں گے۔دوسرے دن صبح سویرے ہم دونوں ان کے مکان پر گئے۔دستک دی تو مغربی صاحب تشریف لے آئے اور آتے ہی مجھ سے بغلگیر ہوئے اور مجھے بوسہ دیا اور کہا کہ آپ سے معافی مانگتا ہوں۔میں آپ کی طرف آنا ہی چاہتا تھا۔اند رتشریف لے آئیں، قہوہ پئیں اور میں آپ کو دکھاؤں کہ میری رات کیسے گزری۔ہم اندر گئے تو انہوں نے رسالہ الحقائق عن الأحمدية کی طرف اشارہ کیا اور کہا : یہ رسالہ میرے ہاتھ میں تھا اور غصہ میں باہر آیا اور پختہ ارادہ کیا کہ اس رسالہ کا رڈ شائع کروں۔میں نے حدیث اور تفاسیر کی کتب جو میرے پاس تھیں وہ میز پر رکھ لیں اور عشاء کی نماز پڑھ کر رد لکھنا شروع کر دیا۔ادھر سے رسالہ پڑھتا اور رڈ لکھنے کے لئے کتابیں دیکھتا۔ایک رڈ لکھتا اس میں تکلف معلوم ہوتا، اسے پھاڑا ، ایک اور رڈلکھتا اسے بھی پھاڑا اور اسی طرح رات بہت گزر گئی۔بیوی نے کہا: رات بہت گزرگئی آرام کرلیں۔میں نے کہا سید زین العابدین نے مجھے بہت ذلیل کیا ہے اور میں یہ رڈ لکھ کر سوؤں گا۔چنانچہ صبح کی اذان ہوئی اور میں رڈ لکھنے کے بعد اس طرح کاغذ