مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 174 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 174

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 162 اس کے اہل بھی ثابت ہوئے۔جب مجھے اچانک دمشق چھوڑ کر حیفا جانا پڑا تو انہوں نے دمشق میں لوائے احمدیت کو قائم رکھا اور سلسلہ کی تبلیغ کے لئے انہوں نے اپنی زندگی وقف کردی۔“ سفر دمشق کا ایک واقعہ (رساله الفرقان دسمبر 1960 ، صفحہ 18 حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس اپنے اس سفر کے بارہ میں لکھتے ہیں: یکم جولائی کو بمبئی سے ہمارا جہاز روانہ ہوا اور 11 جولائی کو سویز پہنچا۔جہاز میں بھی چند اصحاب سے حضرت مسیح موعود کے متعلق گفتگو ہوئی جن میں سے تین عرب مدینہ منورہ کے رہنے والے تھے۔جناب سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے بھی انہیں بعض مسائل کے متعلق سمجھایا، اور میں نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلاۃ والسلام کی کتاب الاستفتاء “ اور ”مواہب الرحمن سے ایک حصہ سنایا۔ان میں سے ایک عالم تھا وہ کہنے لگا : بہت عرصہ ہوا ہے احمد رضا خان بریلوی نے اس مدعی کے متعلق علماء مدینہ سے کفر کا فتویٰ طلب کیا تھا۔جو کچھ اس نے لکھا تھا اس بناء پر انہوں نے کفر کا فتویٰ دے دیا۔مگر اصل بات یہ ہے کہ انہوں نے خود مدعی کی کتب کا مطالعہ نہیں کیا۔آپ کو یہ کتا بیں ضرور وہاں بھیجنی چاہئیں۔انہوں نے بہت اصرار کیا کہ یہ کتاب ضرور مجھے دے دیں مگر ہمارے پاس اس کا کوئی اور نسخہ نہیں تھا۔آخر اسلامی اصول کی فلاسفی کے عربی ترجمہ کی ایک کاپی دی گئی۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مجھ سے ضرور خط و کتابت جاری رکھیں۔(الفضل 18 راگست 1925ء صفحہ 2 بحوالہ خالد احمدیت حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس کے حالات زندگی جلد اوّل صفحہ 151-152 ) اس عرب عالم کا مخالفین احمدیت کے حوالہ سے یہ جملہ کہ انہوں نے خود مدعی کی کتب کا مطالعہ نہیں کیا، بہت اہم ہے۔بلاد عربیہ میں خصوصا اور باقی دنیا میں عموما لوگوں کے پاس احمدیت کے بارہ میں معلومات کا مصدر جماعت کے مخالفین کی کتب ہیں جنہوں نے ایک دفعہ جھوٹ اور افتراء کی راہ سے غلط اور من گھڑت باتیں شائع کر دیں اس کے بعد انہی کتب سے لوگ نقل کرنے لگے اور کسی نے نہ تو اخلاقیات اور صحافتی اقدار کی پاسداری کی ، نہ ہی تحقیق کے دیانتدارانہ طریق کو اپناتے ہوئے اس جماعت کی اصل کتب اور لٹریچر کے مطالعہ سے یا افرادی