مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 175 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 175

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 163 جماعت سے رابطہ کر کے حق جاننے کی کوشش کی۔اس میں بھی کئی فوائد مضمر تھے۔اول تو یہ کہ جب بظاہر بڑے بڑے علماء یوں نقل در نقل کے مرتکب ہوئے تو حقیقت معلوم ہونے پر ان کے علم کی قلعی بھی کھل گئی۔اور ان کی دیانتداری بھی لوگوں پر آشکار ہوگئی کہ ایک ایسا معاملہ جس میں ایک مدعی کی صداقت یا افتراء کا فیصلہ کرنا مقصود تھا اس میں انہوں نے متعصب لوگوں کی رائے کو بلا تحقیق اپنا لیا اور اس صادق اور معصوم کے کفر کے مرتکب ہوئے۔دوسرا یہ کہ جب ایسے افراد جنہوں نے ان نام نہاد علماء کی زبانی احمدیت سے منسوب عجیب وغریب خرافات اور نہایت غلط خبرمیں سن رکھی تھیں جب خود انہیں سلسلہ کی کتب پڑھنے کا اتفاق ہوا تو یکدم انکی کا یا پلٹ گئی اور وہ احمدیت کی گود میں آگئے۔لہذا ہمیں تبلیغ کے سلسلہ میں اس امر کو بطور خاص یا د رکھنا چاہئے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور آپ کے کلام میں جو تاثیر ہے وہ ہماری کسی دلیل میں نہیں ہوسکتی۔اس لئے کوشش یہ ہونی چاہئے کہ لوگوں کو امام الزمان کا کلام پڑھنے کو دیں کیونکہ یہ کلام بذات خود ایک معجزہ ہے۔آج اللہ کے فضل سے خلفائے احمدیت کی رہنمائی میں عربی زبان میں بہت مفید لٹریچر شائع ہو چکا ہے۔حضرت اقدس مسیح موعود کی کتب بھی شائع ہو رہی ہیں۔اور انٹرنیٹ پر بھی یہ سارا مواد دستیاب ہے۔احباب کو چاہئے کہ یہ کتب خرید میں اور عربوں میں تبلیغ کے لئے انہیں استعمال کریں۔دمشق کا پہلا احمدی حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اور حضرت مولا نا جلال الدین صاحب شمس نے دمشق پہنچتے ہی تبلیغی مہمات شروع کر دیں اور خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے ان کوششوں کو پھل لگنے شروع ہوئے۔ابدال الشام میں سے سب سے پہلے حضرت السید محمد سعید الشامی الطرابلسی صاحب (جو) کہ بیروت کے علاقہ سے تھے) کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر کے سلسلہ میں داخل ہونے کے واقعہ کی طرح شام کے علاقہ دمشق کے پہلے احمدی کا واقعہ بھی نہایت ایمان افروز ہے۔