مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 164
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول حمص کا ایک بزرگ 156 "حمص" کا ایک بزرگ حضرت کی تقاریر اور مباحثات اور مولویوں کی بدعنوانیاں اور چاروں طرف سے حملے واعتراضات کی بوچھاڑ کو اور دوسری طرف حضور کا سب کو حوصلہ متحمل اور بہادری سے جواب دینا اور نہ گھبرانا دیکھ کر عاشق ہو رہا تھا اور عش عش کر کے بعض اوقات لوگوں سے لڑنے لگتا تھا کہ یہ کیا تہذیب ہے کہ ایک شخص سے ایک آدمی بات نہیں کرتا چاروں طرف سے بولنے لگتے ہو مگر وہ تنہا سب کو مسکت جواب دیتا جا رہا ہے۔یہ بزرگ بھی اپنے علاقہ میں بہت بڑا آدمی تھا اور کہتا تھا کہ قریباً ایک ہزار آدمی میرے زیر اثر ہے میں چاہتا ہوں کہ احمدی ہو جاؤں انشاء اللہ میرے ساتھی بھی جماعت میں شامل ہو جائیں گے۔پہاڑ سے ٹکر شیعہ فرقہ کا بڑا مفتی اور کئی بڑے بڑے علماء بھی ملنے آئے۔ہر ایک مولوی محض یہ نیت لے کر آتا تھا کہ کسی رنگ میں حضرت اقدس کو یا حضور کے غلاموں کو بحث میں شکست دیں۔کوئی لغت کا زور لے کر آتا۔کوئی حدیث دانی کے گھمنڈ پر آتا۔کوئی فلاسفی کوئی منطق کوئی صرف و نحو کے زعم پر آتا تھا مگر ان کو معلوم نہ تھا کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے علوم کو ایسا غلام کر رکھا ہے کہ کسی کو حضرت اقدس تو کیا حضرت کے غلاموں سے بھی بازی لے جاسکنے کی توفیق نہ ملتی۔جو آتا پہاڑ سے ٹکر کھا کر واپس لوٹ جاتا۔پھوڑتا تو اپنا ہی سر پھوڑتا۔علماء کی اس بے بسی اور بدتہذیبی کی وجہ سے ہی 8 اگست 1924 کے اخبار الف باء نے نوٹ لکھتے ہوئے لکھا کہ میدان میں ایک کامیاب جرنیل یا شیر بہادر کی طرح سے چاروں طرف کے حملوں کا جواب دیتا تھا۔ایک سعید فطرت 19 اگست 1924ء کو حضرت زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست عبدالرحیم آفندی بیروتی پوسٹ ماسٹر دمشق نے بعد نماز ظہر ساڑھے تین بجے حاضر ہو کر ملاقات کرنے کی خواہش کی اور کہا کہ میں آپ کے عقائد کو ماننے کے لئے تیار ہوں۔