مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 165
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول لوگوں کا جم غفیر 157 اس قدر لوگ ہوٹل میں آئے کہ ہوٹل کا مالک چیخ اٹھا کہ وہ اس قدر لوگوں کو برداشت نہیں کر سکتا۔دروازہ ہوٹل کا آخر تنگ آکر بند کر دیا گیا۔لوگ دروازے پر اس کثرت سے جمع تھے کہ دروازہ ٹوٹنے کا بھی اندیشہ تھا۔چند آدمی دروازہ پر متعین کر دیئے گئے۔بعض علماء کہتے تھے کہ عوام کو چھوڑ دیا جاوے اور ہم سے بات کی جاوے۔صرف دس ہی منٹ دے دیئے جاویں۔زیارت ہی کرا دی جاوے۔حضرت صاحب باہر تشریف لائے اور بالائی ڈرائینگ روم میں علماء اور اس مفتی کے بیٹے سے جس نے اشتہار کی اشاعت روک دی ہے مختلف مسائل پر گفتگو فرمانے لگے جن میں سے کسر صلیب اور قتل خنزیر اور جزیہ اُٹھا دینے کے معانی و مطالب شامل ہیں۔خلق خدا کا انبوہ واثر دہام نیچے بے قرار کھڑا انتظار کر رہا تھا۔یہ حالت دیکھ کر پولیس ہوٹل میں پہنچ گئی اور لوگوں کو داخلہ سے روک دیا۔لوگوں کے ہجوم اور غیر معمولی دلچسپی لینے کے بارہ میں خود حضور انور فر ماتے ہیں: جب ہم دمشق میں گئے تو اول تو ٹھہرنے کی جگہ ہی نہ ملتی تھی۔مشکل سے انتظام ہوا مگر دو دن تک کسی نے کوئی توجہ نہ کی۔میں بہت گھبرایا اور دعا کی اے اللہ پیش گوئی جو دمشق کے متعلق ہے کس طرح پوری ہوگی۔اس کا یہ مطلب تو ہو نہیں سکتا کہ ہم ہاتھ لگا کر واپس چلے جائیں۔تو اپنے فضل سے کامیابی عطا فرما۔جب میں دعا کر کے سویا تو رات کو یہ الفاظ میری زبان پر جاری ہو گئے۔عَبْدٌ مُكَرَّم یعنی ہمارا بندہ جس کو عزت دی گئی۔چنانچہ دوسرے ہی دن جب اٹھے تو لوگ آنے لگے۔یہاں تک کہ صبح سے رات کے بارہ بجے تک دوسو سے لے کر بارہ سو تک لوگ ہوٹل کے سامنے کھڑے رہتے۔اس سے ہوٹل والا ڈر گیا کہ فساد نہ ہو جائے۔پولیس بھی آگئی اور پولیس افسر کہنے لگا : فساد کا خطرہ ہے۔میں نے یہ دکھانے کے لئے کہ لوگ فساد کی نیت سے نہیں آئے مجمع کے سامنے کھڑا ہو گیا۔چند ایک نے گالیاں بھی دیں۔لیکن اکثر نہایت محبت کا اظہار کرتے۔اور هذا ابن المهدی کہتے اور سلام کرتے۔مگر باوجود اس کے پولیس والوں نے کہا کہ اندر بیٹھیں، ہماری ذمہ داری ہے۔اور اس طرح ہمیں اندر بند کر دیا گیا۔اس پر ہم نے برٹش کونسل کو فون کیا۔اس پر ایسا انتظام کر دیا گیا کہ لوگ اجازت لے کر اندر آتے رہے۔تاریخ احمدیت جلد 4 صفحہ 437 تا 448۔انوار العلوم جلد 8 دورہ یورپ) 66