مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 148 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 148

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 140 متفق ہو چکا ہوں۔غالبا آپ لوگوں کی ولایت سے واپسی تک میں بیعت میں شامل ہو جاؤں گا۔چونکہ گرمی کا موسم ہے ، تمام عمائد اور علماء ملک کے ٹھنڈے علاقوں کی طرف چلے گئے ہیں۔اس لئے اور زیادہ لوگوں سے ملنے کا موقعہ نہیں مل سکتا تھا۔مصر کے احمدی مجھے جو مصر میں سب سے زیادہ خوشی ہوئی وہ وہاں کے احمدیوں کی ملاقات کے نتیجہ میں تھی۔تین مصری احمدی مجھے ملے اور تینوں نہایت ہی مخلص تھے۔دواز ہر کے تعلیم یافتہ اور ایک علوم جدیدہ کی تعلیم کی تحصیل کرنے والے دوست۔تینوں نہایت ہی مخلص اور جوشیلے تھے۔اور ان کے اخلاص اور جوش کی کیفیت کو دیکھ کر دل رقت سے بھر جاتا تھا۔تینوں نے نهایت درد دل سے اس بات کی خواہش کی کہ مصر کے کام کو مضبوط کیا جائے“۔ایک مصلح کے امیدوار بدوی ایک بات عجیب طور پر وہاں معلوم ہوئی اور وہ یہ کہ قاہرہ کے اردگرد کے بدوی علاقے نہایت ہی تڑپ کے ساتھ ایک مصلح کے امیدوار ہیں۔بعض لوگوں نے جب سلسلہ کے حالات سنے تو خواہش کی کہ اگر ہمارے علاقہ میں کوئی آدمی پندرہ بیس روز بھی آکر رہے تو ہزاروں آدمی سلسلہ میں داخل ہونے کو تیار ہیں۔حضور کی ایک اور پیشگوئی اور اس کا پورا ہونا قاہرہ میں دو دن کے قیام کے بعد حضور بیت المقدس کی طرف روانہ ہوئے جہاں حضور نے دو روز تک قیام فرمایا جس میں وہاں پر موجود حضرت ابوالانبیاء حضرت ابراہیم، حضرت اسحاق ، حضرت یعقوب اور حضرت یوسف علیہم السلام کی قبور اور بعض دیگر مقامات کی زیارت کی۔القدس کے مفتی نے حضور کے اعزاز میں چائے کی دعوت دی جس میں قاضی شہر اور معززین نے بھی شرکت کی۔اس مجلس میں تمام باتیں فصیح عربی زبان میں ہوئیں۔مفتی صاحب نے حیران ہو کر حضور سے دریافت کیا کہ آپ نے عربی زبان کہاں سے سیکھی ہے؟ آپ نے فرمایا کہ ہمارے امام بانی سلسلہ احمدیہ نے ہمیں فرمایا ہے کہ ہم قرآن کی زبان کی