مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 149 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 149

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 141 کو زندہ رکھیں اور اسے اپنی دوسری زبان بنالیں کیونکہ اس میں امت مسلمہ کے اتحاد کا راز پنہاں ہے۔قادیان میں ایک مدرسہ علوم عربیہ کی ترویج کے لئے قائم ہے۔پھر حضور نے عربی زبان کی اعلیٰ تعلیم کے لئے مصر آنے اور حج کے مختلف حالات بیان فرمائے۔حضور کے اس دورہ کو یہاں کے لوکل اخبارات نے بھر پور کوریج دی۔یہاں حضور سے بعض بڑے بڑے مسلمان لیڈروں نے بھی ملاقات کی ، اس کے بارہ میں حضور فرماتے ہیں: ”وہاں کے بڑے بڑے مسلمانوں سے میں ملا ہوں میں نے دیکھا کہ وہ مطمئن ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہودیوں کے نکالنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔مگر میرے نزدیک ان کی رائے غلط ہے۔یہودی قوم اپنے آبائی ملک پر قبضہ کرنے پر تلی ہوئی ہے۔قرآن شریف کی پیشگوئیوں اور حضرت مسیح موعود کے بعض الہامات سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ضرور اس ملک میں آباد ہونے میں کامیاب ہو جائیں گے۔پس میرے نزدیک مسلمان رؤساء کا یہ اطمینان بالآخر ان کی تباہی کا موجب ہوگا“۔تاریخ احمدیت ج ۴ ص ۴۳۷ تا ۴۴۸۔انوار العلوم ج ۸ دورہ یورپ ) قارئین کرام ! ان الفاظ کی شوکت پر غور کیجئے۔قریباً بیس سال بعد اسرائیل کی حکومت کا قیام عمل میں آیا اور اس کے بعد حقیقتاً مسلما دنیا کا اطمینان وسکون تباہ ہو گیا اور خطرات نے آج تک ان کو گھیرا ہوا ہے۔ایک پیاسی اور مستعد روح چند سطور قبل حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی زبانی ایک صوفی بزرگ ابوالعزائم کا ذکر گز را ہے۔وہ جب حضرت مصلح موعودؓ سے ملاقات کی غرض سے حاضر ہوئے تو آپ کہیں باہر گئے ہوئے تھے اس لئے ملاقات نہ ہو سکی۔لیکن معلوم ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ تشریف لائے اور انکی حضور سے ملاقات ہوئی جس کا حال حضرت بھائی عبد الرحمن صاحب قادیانی یوں بیان کرتے ہیں کہ: سید ابو العزائم کی ملاقات اور اس کا حضور کے کلام سے وجد میں آجانا اور یا سیدی اور امامنا اور صدقت و آمنت کر کے اظہار اخلاص کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔وہ بہت بڑا صاحب اثر عالم باعمل مانا گیا ہے حتی کہ بادشاہ وقت تک کے مقابلہ میں کھڑا ہوا ہے۔