مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 143 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 143

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 135 جس نے ایسی جماعت پیدا کی۔تو پاشا نے کہا کہ ”بے شک بے شک یہ سب انہیں کی برکت } ہے۔وہ اسلام کا مایہ ناز فرزند تھا۔لوگ سمجھتے نہیں۔خدیو مصر کی والدہ کے محل میں قاہرہ کے بہترین حصے میں ایک قصر الدوبارہ ہے جہاں خدیو عباس حلمی سابق فرمانروائے مصر کی والدہ کا محل ہے۔یہ حل بڑا شاندار محل ہے۔اس محل کی مصر میں بڑی شہرت تھی اس لئے کہ خدیو کی ماں جو ام الحسنین کہلاتی تھی اس جگہ رہتی تھیں۔سینکڑوں آدمیوں کا جمگھٹا رہتا تھا محل میں بڑی چہل پہل تھی۔میں خدیو مصر کے چھوٹے بھائی ہز ہائینس محمد علی پاشا سے ملنے گیا۔محل میں اس رات بے شمار ملاقاتی جمع تھے۔خاکسار نے شاہی رجسٹر میں اپنا نام احمد یہ مشنری کے مبارک الفاظ کے ساتھ درج کر دیا۔قصر بقعہ نور بن رہا تھا۔مجھے میری باری پر اندر بلایا گیا۔محمد علی پاشا ایک شکیل ووجیہ نوجوان ہیں۔دروازے پر آپ کھڑے تھے۔میں آپ کو پہچان نہ سکا۔میں نے ان کو باڈی گارڈ کا افسر خیال کیا۔میں آگے آگے تھا اور ہز ہائینس میرے پیچھے۔میں جب ایک کمرے سے گزر گیا۔دوسرے میں قدم رکھا تو میں نے ادھر اُدھر دیکھا۔مگر مجھے کوئی نظر نہ آیا۔تیسرے کمرے میں جا کر میں نے پوچھا ہز ہائینس کہاں ہیں ؟ ہز ہائینس مسکرائے اور کہا کہ میں ہوں۔میں شرمندہ ہوا۔کمرے میں میرے ساتھ ابراہیم حسن انصاری بھی تھے۔میں نے پاشا کو سلسلہ کا پیغام دیا۔کتابیں پیش کیں۔پاشا نے سن کر کہا کہ میں آج سے پہلے احمدیت کو تفصیل سے نہیں جانتا تھا۔مگر میں نے ذکر سنا تھا۔اور امریکہ میں سنا تھا کہ لوگ احمدی ہو رہے ہیں“۔پھر کہا کہ : میں آپ سے مل کر بہت خوش ہوا۔میرے دل میں سید احمد ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام ) کی بڑی عزت ہے۔میں اس فرزند مشرق کی عزت کرتا ہوں جس کے سامنے یورپ و امریکہ جھکے۔اور میں چاہتا ہوں کہ مشرق کا ہر فرزند اپنے ایسے فرزندوں کی عزت کرے خواہ ان کے عقائد کچھ ہی کیوں نہ ہوں“۔ایک دشمن کی مجلس میں جہاں سینکڑوں مداح دیکھے۔وہاں سینکڑوں دشمن بھی دیکھے دشمنوں کے گھروں