مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 142 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 142

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول نیل کے کنارے 134۔۔۔ایک دن شام کا وقت تھا۔علامہ احمد ذکی پاشا کے محل کے سامنے ایک چھوٹا سا باغیچہ ہے جن میں آم کے درختوں کو خاص امتیاز ہے۔باغیچہ میں تر و تازگی تھی۔چھڑ کا وہوا ہوا تھا اور پاشا موصوف اپنے دوستوں کے جمگھٹے میں بے تکلف بیٹھے ہوئے تھے۔مصر کے پاشا عام طور پر انگلستان کے لارڈوں سے کم نہیں ہوتے۔اس لئے بالعموم ان میں ایک قسم کا تکبر پیدا ہو جاتا ہے۔ان کے محلات میں ملنا بھی آسان نہیں ہوتا مگرز کی پاشا کے محل میں یہ باتیں مفقود تھیں۔وہ عرب ہیں۔عربوں کے لئے خاص جذبات رکھتے ہیں۔اپنے آپ کو شیخ العروبہ کہتے ہیں اور قصر کے دروازے پر دارالعروبہ لکھا ہوا ہے۔احمد ذکی پاشا اسلام کے زبر دست مؤرخ ہیں۔مجلس وزراء کے سیکرٹری تھے۔اس وقت عالم عربی میں بہت محبوب ہیں۔ان کے قصر کے سامنے نیل کا دریا بڑی شان سے بہہ رہا تھا۔سامنے کے کنارے پر رنکین بڑے بڑے ہاؤس بوٹ ان کے اوپر سر بفلک عمارتیں ان کے اوپر کو منقطم کی چوٹیاں اور کھجور کے درخت دل میں ایک زندہ دلی پیدا کر رہے تھے۔ایسے سہانے وقت میں روزانہ ذکی پاشا اپنی مجلس لگاتے ہیں۔کوٹ پتلون اتار کر ایک لمبا عربی گرتا پہن کر اور سر پر ایک ایسی ٹوپی جیسے دلّی والے پہنتے ہیں پہن کر بیٹھتے ہیں۔شطرنج اور اسی قسم کی اور کھیلیں بھی کھیلی جاتی ہیں۔باتیں بھی ہوتی ہیں۔خوش گپیاں۔علمی تذکرے۔تاریخی بخشیں سب کچھ اسی مجلس میں ہو جاتا ہے۔میں بھی گاہ گاہ اس مجلس میں پاشا کو ملنے جایا کرتا تھا۔مجھے دیکھتے ہی پاشا نے اپنی عادت کے مطابق مسکراتے ہوئے کہا۔وہ آئے۔اپنے دوستوں سے کہا کیا تم نہیں جانتے کہ یہ مرزا احمد قادیانی کے مذہب کے یہاں مبشر ہیں۔یہ کہنے پر میری طرف گرد نہیں اٹھیں اور بعض استہزاء سے اور بعض محبت سے ملنے لگے۔پاشا نے پھر کہا:۔یہ لوگ بڑے باہمت ہیں۔دنیا میں انہوں نے اسلام کی اشاعت کا وہ کام کیا ہے جس کی مثال صحابہ کے زمانہ کے سوا کہیں نہیں ملتی۔یورپ میں امریکہ میں ان کی مساعی سے اب سینکڑوں مسلمان پیدا ہو گئے ہیں۔میں نے کہا کہ ساری خوبی میرے سید و مولی ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ السلام) کی۔