مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 118
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 112 کریں گے اور مجھ سے خط و کتابت کریں گے۔اگر کوئی ان بلاد میں آکر رہے تو انشاء اللہ بہت کامیابی ہوگی کیونکہ تعصب اور حسد سے خالی ہیں“۔ایک اور خط جو آپ نے حضرت خلیفہ اسیح الاوّل رضی اللہ عنہ کی خدمت میں ارسال کیا۔اس خط میں آپ نے تحریر فرمایا: سیدی و امامی واستاذی۔السلام علیکم اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور عنایت سے بخیر وخوبی کل بتاریخ 7 اکتوبر کومکہ مکرمہ پہنچ گئے۔خدا تعالیٰ کا ہزار ہزار شکر اور عنایت ہے کہ اس نے اپنے فضل سے اپنے پاک اور مقدس مقام کی زیارت کا موقعہ دیا۔کل جب مکہ کی طرف اونٹ آ رہے تھے دل کی عجیب کیفیت تھی کہ بیان نہیں ہو سکتی۔محبت کا ایک جوش دل میں پیدا ہو رہا تھا اور جوں جوں قریب آتے تھے دل کا شوق بڑھتا جاتا تھا۔میں حیران ہوں کہ اللہ تعالیٰ کس طرح اپنی حکمت اور ارادہ کے ماتحت کہاں سے کہاں کھینچ لایا۔پہلے مصر کا خیال پیدا ہوا، پھر یہ خیال آیا کہ راستہ میں مکہ ہے اسکی زیارت بھی کر لیں۔پھر خیال ہوا حج کے دن ہیں ان سے بھی فائدہ اٹھایا جائے۔غرض کہ ارادہ مصر سے مکہ اور حج کا ہوا اور آخر اللہ تعالیٰ نے وہاں پہنچا دیا۔مجھے مدت سے حج کی خواہش تھی اور اس کے لئے دعائیں بھی کی تھیں لیکن بظاہر کوئی صورت نظر نہ آتی تھی۔کیونکہ وہاں کے رستہ کی مشکلات سے طبیعت گھبراتی تھی اور یہ بھی خیال تھا کہ مخالفین کوئی شرارت نہ کریں۔لیکن مصر کے ارادہ سے یہ خیال ہوا کہ مصر جانا اور راستے میں مکہ کو ترک کر دینا ایک بے حیائی ہے۔اس میں تو کچھ شک نہیں کہ جدہ سے مکہ کا سفر نہایت کٹھن ہے۔اور میر صاحب تو قریباً بیمار ہو گئے اور مجھے بھی سخت تکلیف ہوئی اور تمام بدن کے جوڑ جوڑ ہل گئے۔لیکن بڑی نعمتیں بڑی قربانیاں بھی چاہتی ہیں۔اس بڑی نعمت کے لئے یہ تکلیف کیا چیز ہے۔مدینہ کا راستہ اور بھی طویل اور کٹھن ہے۔لیکن چند دن کی تکلیف ان پاک مقامات کو دیکھنے کیلئے کہ جہاں رسول کریم فداہ ابی واقعی نے اپنی بعثت نبوت کا ایک روشن زمانہ گزارا کیا چیز ہے؟ میرا دل تو اللہ تعالیٰ کے اس احسان پر قربان ہوا جارہا ہے کہ وہ کس حکمت کے ساتھ مجھے اس جگہ لے آیا۔ذلِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاء