مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 119
مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 113 اللہ تعالیٰ کی حکمت اس سے بھی معلوم ہوتی ہے کہ اول تو اس جہاز سے جو مصر جاتا تھا رہے گئے۔لیکن بعد میں جب اصرار کر کے دوسرے جہاز میں سوار ہوئے تو مصر پہنچتے ہی خواب آیا کی کہ حضرت صاحب یا آپ فرماتے ہیں کہ فورا مکہ چلے جاؤ پھر شاید موقع ملے نہ ملے۔چنانچہ دو جہاز چلے گئے اور ہم ان میں سوار نہ ہو سکے جس سے خواب کی تصدیق ہو گئی۔اس طرح مصر کی سیر بھی نہ کر سکے اور جب مکہ پہنچے تو معلوم ہوا کہ اب مصر نہیں جاسکتے۔کیونکہ گورنمنٹ مصر کا قاعدہ ہے کہ سوائے ان لوگوں کے جو مصر کے باشندہ ہوں حج کے بعد چار مہینہ تک کوئی شخص حجاز و شام سے مصر تک نہیں جا سکتا۔میں نے تو ان سب واقعات کو ملا کر یہی نتیجہ نکالا ہے کہ منشائے الہی مجھے حج کروانے کا تھا اور مصر کا خیال ایک تدبیر تھی“۔ماخذ حیات نور صفحہ 592-594 ، تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 417-418) ایک اعتراض اور اس کا جواب قدیم سے جماعت احمدیہ پر ایک اعتراض کیا جا رہا ہے کہ ان کا قبلہ دیگر مسلمانوں کے قبلہ سے مختلف ہے اور ان کا حج قادیان میں ہوتا ہے۔اس سلسلہ میں حضرت مصلح موعود مرزا بشیر الدین محمود احمد کا ایک اقتباس بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔گو کہ میڈیا کی ترقی سے جماعت احمدیہ کی آواز کے انتشار میں حائل بے شمار رکاوٹیں بے معنی ہو گئی ہیں اور لوگ بہت حد تک حقیقت کو دیکھنے اور سمجھنے لگ گئے ہیں اس کے باوجود آج کل بھی خصوصا عرب دنیا سے یہ اعتراض بار بار کیا جارہا ہے۔اس لئے شاید مناسب ہو کہ یہاں پر آ کر حضرت صاحبزادہ صاحب کے اس سفر کی داستان کے بعض نکات ہی ذکر کر دیے جائیں تو اس اعتراض کا شافی جواب آ جائے گا۔مثلاً روانگی سے قبل فرمایا: میرے دل میں مدت سے خواہش تھی کہ مکہ معظمہ جو خدا کے پیاروں کی جگہ ہے وہاں جا کر دعائیں کروں کہ مسلمان اس وقت بہت ذلیل ہو رہے ہیں۔اے خدا قوم نے تجھ کو چھوڑا ، نہ دین رہا نہ دنیا ر ہی، کوئی تدبیر ان کی اصلاح کی کارگر نہیں ہوتی۔اس جگہ تو نے ابراہیم کو وعدہ دیا تھا اور اس کی دعا کو قبولیت کا شرف بخشا اور حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں کو قبول کیا تھا۔آج پھر وہی دعا ئیں ہمارے لئے قبول فرما اور اہل اسلام کو عزت