مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 117 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 117

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 111 پورٹ سعید سے آپ کا ارادہ قاہرہ میں جا کر مدارس اور لائبریریاں دیکھنے اور شہر کی معزز شخصیات سے ملاقات کرنے کا تھا۔مگر یہاں آپ کو خواب میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا حضرت خلیفہ اول نے فرمایا کہ حج کو چلے جاؤ ورنہ پھر جگہ نہ ملے گی۔چنانچہ آپ نے وہاں سے مصر کی سیر کئے بغیر مکہ المکرمہ کا سفر اختیار فرمایا۔پورٹ سعید سے سویز آتے ہوئے سیکنڈ کلاس میں پانچ آدمی آپ کے ساتھ اور سوار تھے ایک یورپین اور چار مسلمان، جن میں سے دو بدوی رؤساء اور ایک محکمہ تار کا افسر اور ایک ریلوے انسپکٹر تھا۔آپ نے ان مسلمانوں کے سامنے اسلام کی حالت زار کا نقشہ کھینچنے کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعاوی پر روشنی ڈالی۔محکمہ تار کا افسر جو عربی کے علاوہ انگریزی، فرانسیسی اور اٹلی زبان بھی جانتا تھا آپ کی گفتگو سے بہت متاثر ہوا۔اور آپ کا پتہ لے کر نوٹ کر لیا اور آئندہ خط و کتابت رکھنے کا وعدہ کیا۔اور دوران سفر آپ کو آرام پہنچانے کی ہر ممکن کوشش کی۔(ماخذ حیات نور صفحہ 592-594 - تاریخ احمدیت جلد 3 صفحہ 416) جدہ اور مکہ سے حضرت صاحبزادہ صاحب کے خطوط مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس جگہ حضرت صاحبزادہ صاحب کے جدہ اور مکہ سے مرسلہ خطوط کے بعض اقتباسات بھی نقل کر دئے جائیں تا قارئین کرام کو پتہ چل سکے کہ حضرت صاحبزادہ صاحب نے اسلام اور جماعت احمدیہ کی ترقی کے لئے کس قدر دعائیں کی ہیں۔پہلے خط میں آپ لکھتے ہیں: خدا کے فضل سے مصر سے ہو کر احرام کی حالت جدہ پہنچ گئے ہیں۔اللہ اللہ کیا پاک ملک ہے۔ہر چیز کو دیکھ کر دعا کی توفیق ملتی ہے۔خدا کی رحمتیں اس زمین پر بے شمار ہی معلوم ہوتی ہیں۔احباب قادیان کے لئے ، احمدی جماعت کے لئے اور حالت اسلام کے لئے اس قدر دعاؤں کی توفیق ملی ہے کہ بیان نہیں ہوسکتی۔میں نے احمدی جماعت کے لئے اور حالت اسلام کے لئے اس سفر میں اس قدر دعائیں کی ہیں کہ اگر وہ ان کا اندازہ لگا سکیں تو انکے دل محبت سے پگھل جائیں۔لیکن لَا يَعْلَمُ اَسْرَارَ القُلُوبِ إِلَّا الله تبلیغ کے وقت بھی بڑی کامیابی معلوم ہوتی ہے۔لوگ بڑے شوق سے باتیں سنتے ہیں کئی لوگوں نے اقرار کیا ہے کہ وہ غور کی