مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 98 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 98

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 94 ایک پرانا الہام اس عنوان کے تحت ملفوظات جلد 3 میں ایک عرب کے بارہ میں حضور علیہ السلام کے الہامات اور ان کے قبول صدق کے بارہ میں بیان ملتا ہے لیکن یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ یہ خوش نصیب کون تھے۔ذیل میں ملفوظات کی عبارت نقل کی جاتی ہے۔ابتدائے جنوری 1902 ء کو ایک عرب صاحب آئے ہوئے تھے بعض لوگ ان کے متعلق مختلف رائے رکھتے تھے۔حضرت اقدس امام علیہ الصلاۃ والسلام کو 9 جنوری کی شب کو اس کے متعلق الہام ہوا : قد جرت عادة الله أنه لا ينفع الأموات إلا الدعاء اس وقت رات کے تین بجے ہوں گے، حضرت اقدس فرماتے ہیں کہ اس وقت پر میں نے دعا کی تو یہ الہام ہوا: وكلَّمه من كلّ بابٍ ولن ينفعه إلا هذا الدواء (أى الدعاء) اور پھر ایک اور الہام اسی عرب کے متعلق ہوا کہ: فيتبع القرآن، إن القرآن كتاب الله ، كتاب الصادق چنانچہ 9 جنوری 1902ء کی صبح کو جب آپ سیر کو نکلے تو حضرت اقدس نے عربی زبان کی میں ایک تقریر فرمائی جس میں سلسلہ محمدیہ اور موسویہ کی مشابہت کو بتایا۔اور پھر سورۃ النور کی آیت استخلاف اور سورۃ التحریم سے اپنے دعاوی پر دلائل پیش کئے۔اور قرآن شریف اور احادیث کے مراتب بتائے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ عرب صاحب جو پہلے بڑے جوش سے بولتے تھے بالکل صاف ہو گئے۔انہوں نے صدق دل سے بیعت کی اور ایک اشتہار بھی شائع کیا اور بڑے جوش کے ساتھ اپنے ملک کی طرف بغرض تبلیغ چلے گئے“۔( ملفوظات جلد 3 صفحہ 210