مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 97 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 97

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 93 فونوگراف کے ذریعہ عربی زبان میں تقریر ریکارڈ کرنے کی تجویز 31 اکتوبر 1910 ء کی ملفوظات کی ڈائری میں لکھا ہے: حضرت اقدس حسب معمول سیر کو تشریف لے گئے راستہ میں فونوگراف کی ایجاد اور اس سے اپنی تقریر کو مختلف مقامات پر پہنچانے کا تذکرہ ہوتا رہا۔چنانچہ یہ تجویز کی گئی کہ اس میں حضرت اقدس کی ایک تقریر عربی زبان میں بند ہو جو چار گھنٹہ تک جاری رہے۔اس تقریر سے پہلے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب کی تقریر ایک انٹروڈ کٹری نوٹ کے طور پر جس کا مضمون اس قسم کا ہو کہ انیسویں صدی مسیح کے سب سے بڑے انسان کی تقریر آپ کو سنائی جاتی ہے جس نے خدا کی طرف سے مامور ہونے کا دعوی کیا ہے اور جو مسیح موعود اور مہدی موعود کے نام سے دنیا میں آیا ہے اور جس نے ارض ہند میں ہزاروں لوگوں کو اپنے ساتھ ملا لیا ہے اور جس کے ہاتھ پر ہزاروں تائیدی نشان ظاہر ہوئے ، خدا تعالیٰ نے جس کی ہر میدان میں نصرت کی وہ لو اپنی دعوت بلا داسلامیہ میں کرتا ہے سامعین خود اسے اس کے منہ سے سن لیں کہ اس کا کیا دعوی ہے اور اسکے دلائل اسکے پاس کیا ہیں۔اس قسم کی ایک تقریر کے بعد پھر حضرت اقدس کی تقریر ہوگی اور جہاں جہاں یہ لوگ جائیں اسے کھول کر سناتے پھریں۔( ملفوظات جلد 2 صفحہ 378) لیکن بعد میں حضرت مولانا عبد الکریم صاحب سیالکوٹی کی آواز میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دو نظمیں اس میں ریکارڈ کی گئیں جو حضور نے انہی ایام میں محض تبلیغ کی غرض سے لکھی تھیں۔اور ایک سال بعد حضرت مولوی نور الدین صاحب کی آواز میں ایک وعظ بھی ریکارڈ کرایا گیا۔