مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 94 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 94

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول أم يزعمون أنهم من أهل اللسان ؟ سيهزمون ويولون الدبر یعنی: کیا وہ دعوی کرتے ہیں کہ وہ اہل زبان ہیں؟ وہ عنقریب شکست کھائیں گے اور میدان سے پیٹھ پھیر کر بھاگ جائیں گے۔90 الهدى والتبصرة لمن يری ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 268 ) چنانچہ حضور علیہ السلام نے لکھ کر 12 جون 1902ء کو کتاب الهدى والتبصرة لمن يرى“ چھاپ دی اور اس کا ایک نسخہ شیخ رشید رضا کو بھی بھجوایا گیا لیکن انہیں یہ توفیق نہ ملی کہ اس کے جواب میں ایسی فصیح و بلیغ کتاب لکھ کر آپ کی پیشگوئی کو باطل ثابت کرتے۔سَيُهْزَم فَلا يُرى (ماخوذ از روحانی خزائن جلد 18 ، صفحہ 12) 12 ستمبر 1933 ء کو شام کے مخلص احمدی مکرم منیر الحصنی صاحب نے ایک مضمون لکھ کر مصر کے ایک اخبار الاهرام میں چھپوایا جس میں انہوں نے لکھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سب سے زیادہ اسلامی تعلیمات پر عمل کرنے والے تھے جبکہ ایسے عظیم شخص کو شیخ رشید رضانے ایسے مسلمان کا فر کہا اور احمدیوں کو اسلام سے خارج قرار دیا۔اس پر 27 ستمبر کے الاحرام کے پرچے میں شیخ رشید رضا نے مکرم منیر الحصنی صاحب کو تلبیس و کذب و تحریف کا مرتکب لکھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی اہانت، انگریزوں کے ساتھ منافقانہ طرز عمل اور جہاد منسوخ کرنے کا ملزم ٹھہرایا۔مکرم منیر الحصنی صاحب نے شیخ رشید رضا کے جملہ اعتراضات کا کافی وشافی جواب تو دیا اور ساتھ ایک بہت دلچسپ فتوے کی طرف بھی توجہ دلائی جو اسی دن وہاں کے اخبار " السیاسۃ" میں شائع ہوا جس دن شیخ رشید رضا کا مذکورہ بالا مضمون ” الاحرام میں چھپا تھا۔یہ فتوی مصر کے شیخ الد جوی صاحب کا تھا جنہوں نے رشید رضا صاحب کو مخاطب کر کے لکھا: "إنك أحد الرجلين ، رجلٌ يلبس على الناس ، أو رجلٌ لا يفهم ما يقول “ یعنی: اے شیخ رشید رضا ، یا تو تم ایسے آدمی ہو جو لوگوں سے دھوکا دہی سے کام لیتا ہے، یا ایسے آدمی ہو جسے پتہ نہیں چلتا کہ وہ کیا کہہ رہا ہے۔