مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک)

by Other Authors

Page 93 of 635

مصالح العرب (جلد 1 ۔ابتداء سے ۱۹۵۴ء تک) — Page 93

مصالح العرب۔۔۔۔۔جلد اول 89 کے حضور علیہ السلام کے اس جواب کے بعد کسی اور جواب کی ضرورت نہیں رہتی۔(اعجاز امسیح نزول المسح الهدى والتبصرة لمن يرى، رساله البشری نومبر دسمبر 1935ء) ایک اور چیلنج حضرت مسیح موعو علیہ السلام کو جب شیخ رشید رضا کی بدزبانی اور تمسخر کی خبر ملی تو حضور نے ایک اشتہار شائع فرمایا جس کا کسی قدر بیان ہو چکا ہے۔اس اشتہار میں حضور علیہ السلام نے یہ بھی فرمایا کہ میں ایک اور کتاب لکھتا ہوں جسے ایڈیٹر المنار کو بھجوایا جائے گا اور بڑے اصرار کے ساتھ اس سے اس کتاب کی نظیر طلب کی جائے گی۔(اشتہار بتاریخ 18 نومبر 1901ء) چنانچہ حضور علیہ السلام نے بہت تضرع اور خشوع وخضوع سے دعا کی یہاں تک کہ قبولیت دعا کے آثار ظاہر ہو گئے۔چنانچہ آپ نے لکھا ( ترجمہ ذیل میں درج کیا جاتا ہے ): اور مجھے اس کتاب کی تالیف کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے توفیق بخشی گئی۔سو میں تکمیل ابواب اور اس کی طبع کے بعد اسے اس کی طرف بھیجوں گا۔اگر مدیر المنار نے اس کا اچھا اور عمدہ رڈ لکھا تو میں اپنی کتابیں جلا دوں گا اور اس کی قدم بوسی کروں گا، اور اس کے دامن سے وابستہ ہو جاؤں گا اور پھر دوسرے لوگوں کی قدر و قیمت اس کے پیمانہ سے لگاؤں گا۔سوئیں پروردگارِ جہان کی قسم کھاتا ہوں اور اس قسم سے عہد کو پختہ کرتا ہوں۔الهدى والتبصرة لمن مری، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 264) اس کے ساتھ ساتھ حضور علیہ السلام نے خدا سے علم پا کر یہ پیشگوئی بھی فرما دی: "أم له في البراعة يد طولى ؟ سيهزم فلا يُرى، نبأ من الله الذى يعلم السر وأخفى ـ “ 66 یعنی کیا مدیر المنار کو فصاحت اور بلاغت میں بڑا کمال حاصل ہے؟ وہ یقیناً شکست کھائے گا اور میدان مقابلہ میں نہ آئے گا۔یہ پیشگوئی اس خدا کی طرف سے ہے جو نہاں در نہاں باتوں کا علم رکھتا ہے۔الهدى والتبصرة لمن يرى ، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 254) اسی طرح دوسرے ادیبوں اور علماء کے متعلق فرمایا: