مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 12 of 24

مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 12

12 تَحْتَ حُكْمِ شَرِيْعَتِيْ وَلَا رَسُوْلَ أَيْ لَاَرَسُوْلَ بَعْدِي إِلَىٰ اَحَدٍ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ بِشَرْعٍ يَدْعُوْ هُمْ إِلَيْهِ فَهَذَا هُوَالَّذِيْ انْقَطَعَ وَسُدَّ بَابُهُ لَا مَقَامُ النُّبُوَّةِ “ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی وجہ سے جو نبوت بند ہوئی ہے وہ تشریعی نبوت ہے نہ کہ مقامِ نبوت۔پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت کو منسوخ کرنے والی یا اس میں کسی قسم کی ایزادی کرنے والی کوئی شریعت نہ ہوگی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا بھی کہ میرے بعد نبوت اور رسالت بند ہوگئی اور میرے بعد اب نبی اور رسول نہ ہوگا یہی مطلب ہے یعنی کوئی ایسا نبی نہ ہوگا جو میری شریعت کے مخالف ہو۔بلکہ جب ہوگا میری شریعت کے ماتحت ہوگا۔اسی طرح کوئی ایسا رسول نہ ہو گا جو نئی شریعت کی طرف لوگوں کو دعوت دے۔پس نبوت کے منقطع ہونے اور اس کے دروازے بند ہونے کے یہ معنے ہیں نہ یہ کہ مقام نبوت اب کسی کو مل نہیں سکتا۔۸۔حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں۔قُوْلُوْا إِنَّهُ خَاتَمُ الْأَنْبِيَاءِ وَلَا تَقُوْلُوْا لَا نَبِيَّ بَعْدَهُ “ (در منثور جلد ۵ صفحه ۲۰۴ و تکمله مجمع البحار صفحه ۸۵) یعنی آنحضرت صلعم کو خاتم الانبیاء تو بیشک کہو لیکن یہ نہ کہو کہ حضور کے بعد نبی ۹ - امام محمد طاہر سندھی اپنی کتاب تعملہ مجمع الجار صفحہ ۸۵ میں حضرت عائشہ کے اس