مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 11
11 میں تحریر فرماتے ہیں:۔وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَبِيَّ بَعْدِي وَلَا رَسُوْلَ الْمُرَادُ بِهِ لَا مُشَرِّعَ بَعْدِي۔“ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو یہ فرمایا ہے کہ میرے بعد کوئی نبی اور رسول نہیں اس سے مُراد یہ ہے کہ حضور کے بعد کوئی شریعت لانے والا نبی نہ ہوگا۔- عارف ربانی سید عبدالکریم جیلانی علیہ الرحمہ تحریر فرماتے ہیں:۔فَانْقَطَعَ حُكْمُ نُبُوَّةِ التَّشْرِيْعِ بَعْدَهُ وَكَانَ مُحَمَّدٌ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَاتَمَ النَّبيِّنَ (الانسان الكامل باب (۳۶) یعنی نبوت تشریعی کا حکم بند ہو چکا ہے کیونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں۔ے۔شیخ محی الدین ابن عربی نے اپنی کتاب فتوحات مکیہ میں مختلف مقامات پر اس مسئلہ کی وضاحت فرمائی ہے۔چنانچہ جلد ۲ صفحہ ۳ے میں تحریر فرماتے ہیں:۔"إِنَّ النُّبُوَّةَ الَّتِي انْقَطَعَتْ بِوُجُوْدِ رَسُوْلِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا هِيَ نُبُوَّةُ التَّشْرِيْعِ لَا مَقَامُهَا فَلَاشَرْعُ يَكُوْنُ نَاسِخًا لِشرْعِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا يَزِيدُ فِي شَرْعِهِ حُكْمًا وَهَذَا مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الرِّسَالَةَ وَالنُّبُوَّةَ قَدِ انْقَطعَتْ فَلَا رَسُوْلَ بَعْدِي وَلَا نَبِيَّ أَيْ لَا نَبِيَّ يَكُوْنُ عَلَى شَرْعِ يُخَالِفُ شَرْعِيْ بَلْ إِذَا كَانَ يَكُوْنُ