مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 13
13 قول کو درج کر کے تحریر فرماتے ہیں۔هذَا نَاظِرًا إِلَى نُزُوْلِ عِيْسَى وَهَذَا أَيْضًا لَا يُنَافِي حَدِيْتَ 66 لَا نَبِيَّ بَعْدِي لِأَنَّهُ أَرَادَ لَا نَبِيَّ يَنْسِخُ شَرْعَهُ “ یعنی ام المومنین حضرت عائشہ کا یہ قول مسیح موعود نبی اللہ کی آمد کو مد نظر رکھ کر فرمایا گیا ہے۔اور حدیث لا نَبِيَّ بَعْدِی کے مخالف نہیں۔کیونکہ اس حدیث سے مراد یہ ہے کہ آنحضرت کے بعد ایسا نبی نہ ہوگا جو حضور کی شریعت کو منسوخ کردے۔۱۰۔ابن ماجہ کتاب الجنائز میں جو صحاح ستہ میں حدیث کی بڑی معتبر کتاب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے مندرجہ ذیل روایت آئی ہے۔حضور نے اپنے بیٹے ابراہیم کی وفات پر فرمایا۔لَوْ عَاشَ إِبْرَاهِيْمُ) لَكَانَ نَبِيًّا - یعنی اگر میرا بیٹا ابراہیم زندہ رہتا تو ضرور نبی ہوتا۔اس حدیث کو صحیح ثابت کرنے کے بعد مشہور محدث ملا علی قاری رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب موضوعات کبیر صفحه ۵۸ وصفحه ۵۹ میں تحریر فرماتے ہیں۔قُلْتُ مَعَ هَذَا لَوْعَاشَ إِبْرَاهِيْمُ وَصَارَ نَبِيًّا وَّ كَذَ الَوْ صَارَ عُمَرُ نَبِيًّا لَكَانَ مِنْ أَتْبَاعِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ۔۔۔۔۔۔فَلَا يُنَاقِضُ قَوْلَهُ خَاتَمَ النَّبِيِّنَ إِذِ الْمَعْنَى أَنَّهُ لَا يَأْتِي نَبِيٌّ يَنْسِخُ مِلَّتَهُ وَلَمْ يَكُنْ مِنْ أُمَّتِهِ “ 6 یعنی میں کہتا ہوں اس کے ساتھ اگر ابراہیم زندہ رہتے اور نبی ہو جاتے نیز اگر