مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 10
10 وَخَالَمَ النَّبِيِّينَ فرمانا کیو نکر صحیح ہو سکتا ہے۔" ( تحذیر الناس صفحه ۳ ) اور اسی کتاب کے صفحہ ۲۸ پر تحریر فرماتے ہیں:۔اگر بالفرض بعد زمانہ نبوی بھی کوئی نبی پیدا ہوتو پھر بھی خاتمیت محمدی میں کچھ فرق نہ آئے گا۔“ ۳:۔حضرت مرزا مظہر جان جاناں شہید دہلوی فرماتے ہیں:۔یچ کمال غیر از نبوت بالا صالت ختم نگردیده در مبدأفیاض بخل و دریغ ممکن نیست (مقامات مظہری صفحه ۸۸) یعنی سوائے نبوت بالاصالت کے کوئی کمال ختم نہیں ہوا اور مبدا فیاض میں بخل و دریغ جائز نہیں۔۴۔حضرت مولانا شاہ ولی اللہ صاحب محدث دہلوی تحریر فرماتے ہیں:۔”وَخُتِمَ بِهِ النَّبِيُّوْنَ اَيْ لَا يُوْجَدُ مَنْ يَّأْمُرُهُ اللَّهُ سُبْحَانَهُ بِالتَّشْرِيْعِ عَلَى النَّاسِ۔“ (تقسیمات الہی تفهیم نمبر ۵۳) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے بعد ایسا شخص نہیں ہو سکتا ہے خدا تعالیٰ شریعت دے کر لوگوں کیلئے مامور فرمائے۔۵۔حضرت امام عبد الوہاب شعرانی رحمۃ اللہ علیہ الیواقیت والجواہر جلد ۲ صفحہ ۴۲