مسئلہ ختم نبوت اور جماعت احمدیہ — Page 9
9 قرآن مجید و حدیث کے علاوہ اکابر علماء امت کے اقوال سے بھی حضرت اقدس کے ان ارشادات کی تائید و تصدیق ہوتی ہے۔منجملہ ان کے ہم چند اقوال ذیل میں درج کرتے ہیں:۔1- حضرت مولانا عبدالحی صاحب فرنگی محلی لکھنوی تحریر فرماتے ہیں:۔علماء اہل سنت بھی اس امر کی تصریح کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عصر میں کوئی نبی صاحب شرع جدید نہیں ہوسکتا۔اور نبوت آپ کی تمام مکلفین کو شامل ہے۔اور جو نبی آپ کے ہم عصر ہوگا وہ متبع شریعت محمدیہ ہو گا۔پس بہر تقدیر بعثت محمد یہ عام ہے۔“ دافع الوسواس في عصر ابن عباس صفحه ۳ ) اور اسی کتاب کے صفحہ ۱۲ پر تحریر فرماتے ہیں:۔کیونکہ بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یا زمانہ میں آنحضرت صلعم کے مجر دکسی نبی کا ہونا محال نہیں بلکہ صاحب شرع جدید ہونا البتہ ممتنع ہے۔" ۲: حضرت مولا نا محمد قاسم نانوتوی بانی مدرسہ دیو بند تحریر فرماتے ہیں:۔سوعوام کے خیال میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خاتم ہونا بایں معنی ہے کہ آپ کا زمانہ انبیاء سابق کے زمانہ کے بعد اور آپ سب میں آخری نبی ہیں۔مگر اہل فہم پر روشن ہوگا کہ تقدم و تاخر زمانی میں بالذات کچھ فضیلت نہیں۔پھر مقامِ مدح میں وَلكِنْ رَّسُوْلَ اللهِ